Amazing support all across the country during the final of the #WorldCup ¡Muchas gracias! We love you.
Shahid Lateef#London#UK
he wasn't even looking at me and he found me

shark vs the universe
Cosimo Galluzzi
"I'm Dorothy Gale from Kansas"
YOU ARE THE REASON

Discoholic 🪩
official daine visual archive
Mike Driver
Claire Keane
KIROKAZE
ojovivo

Kiana Khansmith
Sade Olutola

pixel skylines
One Nice Bug Per Day
TVSTRANGERTHINGS

❣ Chile in a Photography ❣
cherry valley forever
The Bowery Presents
seen from Lebanon

seen from Croatia
seen from Bolivia
seen from United States
seen from Mali
seen from Bangladesh

seen from Uzbekistan

seen from Türkiye
seen from Poland
seen from Saudi Arabia
seen from United States

seen from India
seen from Canada
seen from Colombia
seen from Brazil
seen from Bangladesh
seen from Türkiye
seen from Bangladesh

seen from Malaysia
seen from Malaysia
@shahlateef
Amazing support all across the country during the final of the #WorldCup ¡Muchas gracias! We love you.
Shahid Lateef#London#UK

Anya is live and ready to show you everything. Watch her strip, dance, and perform exclusive shows just for you. Interact in real-time and make your fantasies come true.
Free to watch • No registration required • HD streaming
Amazing support all across the country during the final of the #WorldCup ¡Muchas gracias! We love you.
Shahid Lateef#London#UK
Congratulations from the Muslim World
Congratulations from the Muslim World
Congratulations from the Muslim World.

Anya is live and ready to show you everything. Watch her strip, dance, and perform exclusive shows just for you. Interact in real-time and make your fantasies come true.
Free to watch • No registration required • HD streaming
Congratulations from the Muslim World.
Disgusting behaviour by the Argentinians at the end, especially Paredes. Just a bunch of nasty, violent thugs, and a disgrace to football. Never been so happy to see a team lose.
Congratulations from the Muslim World
#FIFAWorldCup2026
Congratulations from the Muslim World
#FIFAWorldCup2026
Disgusting behaviour by the Argentinians at the end, especially Paredes. Just a bunch of nasty, violent thugs, and a disgrace to football. Never been so happy to see a team lose.

Anya is live and ready to show you everything. Watch her strip, dance, and perform exclusive shows just for you. Interact in real-time and make your fantasies come true.
Free to watch • No registration required • HD streaming
دنیا میں پرندوں کی ہجرت کے کئی حیران کن ریکارڈ موجود ہیں، لیکن Bar-tailed Godwit کا یہ سفر ان سب میں غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک نوجوان پرندہ تھا، جسے سائنسی ریکارڈ میں B6 یا اس کے سیٹلائٹ ٹیگ نمبر 234684 سے پہچانا گیا۔ اس نے الاسکا سے اڑان بھری اور مسلسل 11 دن اور 1 گھنٹہ فضا میں رہنے کے بعد تسمانیہ، آسٹریلیا جا پہنچا۔ اس پورے سفر کا فاصلہ تقریباً 13,560 کلومیٹر یعنی 8,425 میل تھا۔ خاص بات یہ ہے کہ اس نے یہ سفر بغیر رکے مکمل کیا۔نہ زمین پر اترا، نہ سمندر پر بیٹھا، نہ خوراک لی، نہ پانی پیا، اور نہ آرام کیا۔ یہ پرندہ کوئی بوڑھا یا تجربہ کار مسافر بھی نہیں تھا۔ یہ صرف چند ماہ کا نوجوان پرندہ تھا اور یہ اس کی پہلی بڑی ہجرت تھی۔ سائنس دانوں کے لیے یہی بات سب سے زیادہ حیران کن ہے کہ اتنی کم عمر میں اس نے کھلے بحرالکاہل کے اوپر اتنا طویل راستہ کیسے درست طریقے سے طے کیا۔ Bar-tailed Godwit عام طور پر ساحلی علاقوں میں رہنے والا لمبی چونچ والا پرندہ ہے۔ یہ کیچڑ اور ریت میں اپنی چونچ ڈال کر کیڑے، چھوٹے آبی جاندار اور خوراک تلاش کرتا ہے۔ لیکن جب ہجرت کا وقت آتا ہے تو یہی چھوٹا سا جسم ایک حیران کن مشین کی طرح کام کرنے لگتا ہے۔ پرواز سے پہلے یہ اپنے جسم میں بہت زیادہ چربی جمع کرتا ہے۔ یہی چربی اس پورے سفر کا ایندھن بنتی ہے۔ تحقیق کے مطابق ایسے لمبے سفر سے پہلے اس کے جسم کا وزن کافی بڑھ جاتا ہے، لیکن اڑان کے دوران جسم توانائی کو انتہائی احتیاط سے استعمال کرتا ہے۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کے جسم کے کچھ اندرونی اعضا، خاص طور پر نظامِ ہضم کے حصے، عارضی طور پر سکڑ جاتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جسم ہلکا ہو جاتا ہے، غیر ضروری وزن کم ہو جاتا ہے، اور زیادہ توانائی پرواز کے لیے بچ جاتی ہے۔ یہ سفر صرف جسمانی طاقت کا معاملہ نہیں تھا۔ اس میں راستہ پہچاننے کی غیر معمولی صلاحیت بھی شامل تھی۔ ہزاروں میل تک سمندر، بادل، ہوائیں اور بدلتا موسم تھا، مگر پھر بھی یہ پرندہ اپنے راستے سے بھٹکا نہیں۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ایسے پرندے زمین کے مقناطیسی میدان، سورج، ستاروں، ہوا کے رخ اور اپنی پیدائشی سمت شناسی سے مدد لیتے ہیں۔ اس پرندے نے زیادہ تر راستہ کھلے سمندر کے اوپر طے کیا، جہاں اگر وہ تھک جاتا تو اترنے کی کوئی محفوظ جگہ موجود نہیں تھی۔ اسی لیے یہ پرواز جانوروں کی دنیا کے سب سے بڑے endurance records میں شمار ہوتی ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک پرندے کی کہانی نہیں، بلکہ قدرتی نظام کی ایک غیر معمولی مثال ہے۔ ایک چند ماہ کا پرندہ، جس کے پاس نہ نقشہ تھا، نہ کمپاس، نہ انجن، نہ ایندھن کا ٹینک، پھر بھی اس نے وہ سفر کر دکھایا جسے دیکھ کر جدید سائنس بھی حیران ہے۔ Surat No 67 : سورة الملك - Ayat No 19 اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اِلَی الطَّیۡرِ فَوۡقَہُمۡ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقۡبِضۡنَ ؕ مَا یُمۡسِکُہُنَّ اِلَّا الرَّحۡمٰنُ ؕ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیۡءٍ ۢ بَصِیۡرٌ ﴿۱۹﴾ کیا یہ اپنےاوپر پر کھولے ہوئے اور (کبھی کبھی) سمیٹے ہوئے (اڑنے والے) پرندوں کو نہیں دیکھتے ، انہیں (اللہ) رحمن ہی (ہوا و فضا میں) تھامے ہوئے ہے بیشک ہرچیز اس کی نگاہ میں ہے
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے آئے تو سہی بر سر الزام ہی آئے
حیران ہیں لب بستہ ہیں دلگیر ہیں غنچے خوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے
لمحات مسرت ہیں تصور سے گریزاں یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے
تاروں سے سجا لیں گے رہ شہر تمنا مقدور نہیں صبح چلو شام ہی آئے
کیا راہ بدلنے کا گلہ ہم سفروں سے جس رہ سے چلے تیرے در و بام ہی آئے
تھک ہار کے بیٹھے ہیں سر کوئے تمنا کام آئے تو پھر جذبۂ ناکام ہی آئے
باقی نہ رہے ساکھ اداؔ دشت جنوں کی دل میں اگر اندیشۂ انجام ہی آئے
اداجعفری
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے آئے تو سہی بر سر الزام ہی آئے
حیران ہیں لب بستہ ہیں دلگیر ہیں غنچے خوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے
لمحات مسرت ہیں تصور سے گریزاں یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے
تاروں سے سجا لیں گے رہ شہر تمنا مقدور نہیں صبح چلو شام ہی آئے
کیا راہ بدلنے کا گلہ ہم سفروں سے جس رہ سے چلے تیرے در و بام ہی آئے
تھک ہار کے بیٹھے ہیں سر کوئے تمنا کام آئے تو پھر جذبۂ ناکام ہی آئے
باقی نہ رہے ساکھ اداؔ دشت جنوں کی دل میں اگر اندیشۂ انجام ہی آئے
اداجعفری
دنیا میں پرندوں کی ہجرت کے کئی حیران کن ریکارڈ موجود ہیں، لیکن Bar-tailed Godwit کا یہ سفر ان سب میں غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک نوجوان پرندہ تھا، جسے سائنسی ریکارڈ میں B6 یا اس کے سیٹلائٹ ٹیگ نمبر 234684 سے پہچانا گیا۔ اس نے الاسکا سے اڑان بھری اور مسلسل 11 دن اور 1 گھنٹہ فضا میں رہنے کے بعد تسمانیہ، آسٹریلیا جا پہنچا۔ اس پورے سفر کا فاصلہ تقریباً 13,560 کلومیٹر یعنی 8,425 میل تھا۔ خاص بات یہ ہے کہ اس نے یہ سفر بغیر رکے مکمل کیا۔نہ زمین پر اترا، نہ سمندر پر بیٹھا، نہ خوراک لی، نہ پانی پیا، اور نہ آرام کیا۔ یہ پرندہ کوئی بوڑھا یا تجربہ کار مسافر بھی نہیں تھا۔ یہ صرف چند ماہ کا نوجوان پرندہ تھا اور یہ اس کی پہلی بڑی ہجرت تھی۔ سائنس دانوں کے لیے یہی بات سب سے زیادہ حیران کن ہے کہ اتنی کم عمر میں اس نے کھلے بحرالکاہل کے اوپر اتنا طویل راستہ کیسے درست طریقے سے طے کیا۔ Bar-tailed Godwit عام طور پر ساحلی علاقوں میں رہنے والا لمبی چونچ والا پرندہ ہے۔ یہ کیچڑ اور ریت میں اپنی چونچ ڈال کر کیڑے، چھوٹے آبی جاندار اور خوراک تلاش کرتا ہے۔ لیکن جب ہجرت کا وقت آتا ہے تو یہی چھوٹا سا جسم ایک حیران کن مشین کی طرح کام کرنے لگتا ہے۔ پرواز سے پہلے یہ اپنے جسم میں بہت زیادہ چربی جمع کرتا ہے۔ یہی چربی اس پورے سفر کا ایندھن بنتی ہے۔ تحقیق کے مطابق ایسے لمبے سفر سے پہلے اس کے جسم کا وزن کافی بڑھ جاتا ہے، لیکن اڑان کے دوران جسم توانائی کو انتہائی احتیاط سے استعمال کرتا ہے۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کے جسم کے کچھ اندرونی اعضا، خاص طور پر نظامِ ہضم کے حصے، عارضی طور پر سکڑ جاتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جسم ہلکا ہو جاتا ہے، غیر ضروری وزن کم ہو جاتا ہے، اور زیادہ توانائی پرواز کے لیے بچ جاتی ہے۔ یہ سفر صرف جسمانی طاقت کا معاملہ نہیں تھا۔ اس میں راستہ پہچاننے کی غیر معمولی صلاحیت بھی شامل تھی۔ ہزاروں میل تک سمندر، بادل، ہوائیں اور بدلتا موسم تھا، مگر پھر بھی یہ پرندہ اپنے راستے سے بھٹکا نہیں۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ایسے پرندے زمین کے مقناطیسی میدان، سورج، ستاروں، ہوا کے رخ اور اپنی پیدائشی سمت شناسی سے مدد لیتے ہیں۔ اس پرندے نے زیادہ تر راستہ کھلے سمندر کے اوپر طے کیا، جہاں اگر وہ تھک جاتا تو اترنے کی کوئی محفوظ جگہ موجود نہیں تھی۔ اسی لیے یہ پرواز جانوروں کی دنیا کے سب سے بڑے endurance records میں شمار ہوتی ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک پرندے کی کہانی نہیں، بلکہ قدرتی نظام کی ایک غیر معمولی مثال ہے۔ ایک چند ماہ کا پرندہ، جس کے پاس نہ نقشہ تھا، نہ کمپاس، نہ انجن، نہ ایندھن کا ٹینک، پھر بھی اس نے وہ سفر کر دکھایا جسے دیکھ کر جدید سائنس بھی حیران ہے۔ Surat No 67 : سورة الملك - Ayat No 19 اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اِلَی الطَّیۡرِ فَوۡقَہُمۡ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقۡبِضۡنَ ؕ مَا یُمۡسِکُہُنَّ اِلَّا الرَّحۡمٰنُ ؕ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیۡءٍ ۢ بَصِیۡرٌ ﴿۱۹﴾ کیا یہ اپنےاوپر پر کھولے ہوئے اور (کبھی کبھی) سمیٹے ہوئے (اڑنے والے) پرندوں کو نہیں دیکھتے ، انہیں (اللہ) رحمن ہی (ہوا و فضا میں) تھامے ہوئے ہے بیشک ہرچیز اس کی نگاہ میں ہے
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، مگر ان تمام نعمتوں کا حقیقی شکر صرف زبان سے نہیں بلکہ عمل سے ادا ہوتا ہے۔ سجدہ وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنی پیشانی زمین پر رکھ کر اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
سجدہ صرف عبادت نہیں، بلکہ عاجزی، سکون، اطاعت اور محبت کا اظہار ہے۔ جب ہم اپنے رب کے سامنے جھکتے ہیں تو دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے، روح کو اطمینان ملتا ہے اور ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔
یاد رکھیں! جس پیشانی کو اللہ کے سامنے جھکنے کی عادت ہو جائے، اسے دنیا کی کوئی طاقت ذلیل نہیں کر سکتی۔ اپنی نمازوں کی حفاظت کریں، سجدوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور ہر نعمت پر اپنے رب کا شکر ادا کریں۔
﴿فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴾
"پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟"
(سورۃ الرحمٰن)

Anya is live and ready to show you everything. Watch her strip, dance, and perform exclusive shows just for you. Interact in real-time and make your fantasies come true.
Free to watch • No registration required • HD streaming
کیا آپ جانتے ہیں…؟
آپ کے جسم کے اندر ایک ایسی دنیا موجود ہے جسے انسان آج تک پوری طرح سمجھ نہیں سکا…
سائنسدانوں کے مطابق ایک بالغ انسان کے جسم میں تقریباً 39 ٹریلین خلیے ہوتے ہیں، جبکہ ایک 10 سالہ بچے کے جسم میں بھی کھربوں خلیے موجود ہوتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر خلیے کے اندر مکمل معلومات کا ایک ایسا نظام موجود ہے جو دنیا کے جدید ترین کمپیوٹرز کو بھی حیران کر دیتا ہے.
اللہ تعالی کی قدرت قسط نمبر 9
ہر خلیے کے اندر 46 کروموسومز ہوتے ہیں، اور انہی کے اندر DNA موجود ہوتا ہے… یہی DNA انسان کی آنکھوں کا رنگ، قد، جسمانی ساخت، آواز، عادتیں اور بے شمار خصوصیات محفوظ رکھتا ہے۔
سائنس کہتی ہے کہ اگر ایک انسان کے جسم کے تمام DNA دھاگوں کو سیدھا پھیلا دیا جائے تو ان کی لمبائی اربوں کلومیٹر تک جا سکتی ہے… یعنی زمین سے سورج کے فاصلے سے کئی گنا زیادہ۔
اور حیرت صرف لمبائی نہیں…
حیرت یہ ہے کہ اتنا عظیم ڈیٹا ایک ایسے خلیے کے اندر محفوظ ہے جسے ہم آنکھ سے دیکھ بھی نہیں سکتے۔
آج انسان سپر کمپیوٹر بناتا ہے…
Artificial Intelligence تیار کرتا ہے…
Microchips اور Nano Technology پر فخر کرتا ہے…
لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ انسانی جسم کا “Biological System” آج بھی دنیا کے ہر مصنوعی نظام سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور حیران کن ہے۔
ایک چھوٹا سا الیکٹرانک سرکٹ اگر پانی کا معمولی قطرہ برداشت نہ کر سکے تو بند ہو جاتا ہے…
لیکن انسان کے جسم کے کھربوں خلیے مسلسل پانی جیسے ماحول میں رہتے ہوئے بھی 24 گھنٹے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
دل دھڑکتا رہتا ہے…
دماغ سگنلز بھیجتا رہتا ہے…
خلیے تقسیم ہوتے رہتے ہیں…
جسم خود کو Repair کرتا رہتا ہے…
یہ سب کچھ بغیر کسی ظاہری شور کے مسلسل جاری رہتا ہے۔
سوچیں…
اگر ایک عام Software کے پیچھے ایک Programmer ضروری ہوتا ہے…
تو پھر انسان جیسے حیران کن “Living System” کے پیچھے کوئی عظیم خالق کیسے نہ ہوگا؟
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور زمین میں جتنے درخت قلم بن جائیں اور سمندر روشنائی بن جائیں، پھر سات سمندر مزید شامل ہو جائیں، تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی۔”
(سورۃ لقمان: 27)
یہ آیت صرف الفاظ نہیں…
بلکہ انسان، کائنات اور تخلیق کے اُس عظیم راز کی طرف اشارہ ہے جسے انسان آج تک مکمل طور پر سمجھ نہیں سکا۔
جتنا انسان سائنس میں آگے بڑھ رہا ہے…
اتنا ہی اسے اپنے رب کی قدرت کا احساس ہو رہا ہے۔
غالب بڑا ہے یا اقبال؟
اردو ادب میں شاید ہی کوئی سوال ایسا ہو جس پر اتنی شدت، جذباتیت اور فکری تقسیم پائی جاتی ہو جتنی “غالب بڑا ہے یا اقبال؟” کے سوال پر۔ مسئلہ یہ نہیں کہ دونوں میں سے بڑا شاعر کون ہے؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم شاعری کو پرکھتے کس معیار پر ہیں۔
اقبال کے معاملے میں ایک اہم مسئلہ یہ بھی رہا ہے کہ جذباتی عقیدت نے انہیں محض شاعر کے بجائے ایک مقدس ہستی بنا دیا ہے- نتیجتاً تنقید اکثر گستاخی محسوس ہونے لگتی ہے۔ حالانکہ کسی بھی بڑے شاعر کی اصل عظمت اسی میں ہوتی ہے کہ وہ تنقید کو دعوت دے، نہ کہ تنقید سے بالاتر قرار پائے۔ یہ مسئلہ صرف اقبال تک محدود نہیں؛ غالب، میر، فیض، حتیٰ کہ مغربی روایت میں نطشے اور گوئٹے تک اس تقدیس کا شکار رہے ہیں۔
لیکن اقبال پر ہونے والی تنقید میں بھی بعض اوقات چند اہم باریکیاں نظرانداز ہو جاتی ہیں۔
فکری تضادات: کمزوری یا عہد کی پیچیدگی؟
اقبال کے ہاں بظاہر کئی تضادات دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف “سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا” ہے، دوسری طرف مذہبی مرکزیت کا واضح رجحان۔ کہیں عقل کو غلامی سے آزاد کروانے کی بات ہے، تو کہیں عشق کو عقل پر فوقیت دی گئی ہے اور عقل کو “عیار” کہا گیا ہے۔
یہ اعتراض نیا نہیں۔ خود اقبال کے ابتدائی ناقدین بھی ان کے ہاں فکری عدمِ تسلسل کی نشاندہی کرتے رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر تضاد لازماً فکری ابہام ہی ہوتا ہے؟
بعض اوقات تضاد دراصل ایک ایسے ذہن کی علامت ہوتا ہے جو تہذیبی بحران کے بیچ کھڑا ہو۔ اقبال بیسویں صدی کے اس مسلمان ذہن کی نمائندگی کرتے ہیں جو بیک وقت نوآبادیاتی جدیدیت، اسلامی روایت، قومیت، امت، روحانیت، سرمایہ داری اور یورپی عقلیت — سب سے ایک ساتھ نبرد آزما ہے۔
اسی لیے اقبال کے ہاں “خرد” کبھی رہبر بنتی ہے اور کبھی محض حسابی عقل۔ “عشق” بھی محض جذباتیت نہیں بلکہ تخلیقی توانائی اور existential vitality کی علامت بن جاتا ہے۔ اگرچہ اقبال ہمیشہ ان distinctions کو پوری وضاحت سے قائم نہیں رکھ پاتے، لیکن اسے محض “گدلا پن” کہہ دینا شاید معاملے کو حد سے زیادہ سادہ بنا دیتا ہے۔
جبکہ غالب اُس زمانے کے شاعر ہیں جب تہذیبی انحطاط اور سیاسی زوال تو شروع ہو چکا تھا مگر ابھی اُس ذہنی کشمکش کا آغاز نہیں ہوا تھا جو مغربی افکار سے آگاہی کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔
غالب کا سوال اور اقبال کا اضطراب
غالب کی سب سے بڑی قوت ان کا سوال اٹھانے والا ذہن ہے۔ ان کے ہاں تشکیک، استفہام اور self-reflexive شعور غیر معمولی شدت کے ساتھ موجود ہے۔
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
یا:
ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسد
عالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے
غالب metaphysical certainty کو مسلسل destabilize کرتے ہیں۔ ان کے ہاں سوال، جواب سے بڑا ہے۔
لیکن اقبال کے ہاں سوال کی نوعیت مختلف ہے۔
غالب ontological حیرت کے شاعر ہیں، جبکہ اقبال تہذیبی زوال اور اجتماعی بحران کے شاعر۔ غالب وجود پر سوال اٹھاتے ہیں، اقبال زوال پر ردِّعمل دیتے ہیں۔ اسی لیے غالب کا لہجہ contemplative ہے جبکہ اقبال کا prophetic اور mobilizational۔
یہ کہنا درست ہو سکتا ہے کہ غالب intellectually زیادہ subtle اور refined ہیں، لیکن یہ کہنا کہ اقبال محض غالب کے تقلیدی شاعر ہیں، تاریخی اور فنی اعتبار سے کمزور دعویٰ معلوم ہوتا ہے۔
اقبال نے:
مثنوی کو نئی فکری جہت دی،
اردو نظم میں خطیبانہ آہنگ پیدا کیا،
فارسی روایت کی جدید تشکیل کی،
اور “خودی” جیسے تصور کے ذریعے شاعری کو اجتماعی و تاریخی شعور سے جوڑا۔
یہ سب محض تقلید سے پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔
“فکرِ تغیر” — اقبال کا اصل مرکز
اکثر کہا جاتا ہے کہ اقبال کے ہاں اگر کچھ واقعی اہم ہے تو “فکرِ تغیر”۔ لیکن شاید یہی ان کی سب سے بڑی فکری اہمیت بھی ہے۔
برصغیر کے مسلمان ذہن میں جہاں تقدیر پرستی، جمود اور passive spirituality غالب تھے، وہاں حرکت، تخلیق، خودی اور creative action کا تصور معمولی چیز نہیں تھا۔
یہ درست ہے کہ اقبال کا فلسفہ مکمل systematic نہیں۔ وہ نہ کانٹ ہیں، نہ ہیگل اور نہ نطشے۔ لیکن وہ شاعر-مفکر ہیں، اور شاعرانہ فکر ہمیشہ منطقی نظام سے زیادہ فکری impulse پیدا کرتی ہے۔
نظیر، غالب اور اقبال: فرقِ جہات
یہ بات درست ہے کہ اردو نظم کی بنیادیں نظیر اکبر آبادی کے ہاں پہلے سے موجود ہیں۔ لیکن نظم صرف ہیئت کا نام نہیں؛ فکری organization بھی اہم ہے۔ نظیر نے عوامی زندگی اور موضوعاتی وسعت دی، جبکہ اقبال نے نظم کو:
فلسفیانہ تسلسل،
تاریخی شعور،
اور خطیبانہ وحدت
عطا کی۔
یہ superiority کا نہیں بلکہ مختلف جہات کا فرق ہے۔
کیا اقبال لائقِ تقلید ہیں؟
اگر تقلید سے مراد blind imitation ہے تو شاید نہیں۔
اقبال کے سیاسی تصورات بدلتے رہے، قومیت پر ان کا مؤقف پیچیدہ رہا، اور ان کی شاعری میں کئی internal tensions موجود ہیں۔ لیکن کسی بڑے شاعر کی اصل قدر تقلید نہیں بلکہ تحریک ہوتی ہے۔
غالب سے سوال کرنے کا سلیقہ سیکھا جا سکتا ہے۔
اقبال سے حرکت، بے چینی، خودی اور جمود شکنی کا جذبہ۔
غالب زیادہ شفاف ہیں؟
یہاں ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے۔ بظاہر غالب زیادہ عقلی، refined اور واضح محسوس ہوتے ہیں، لیکن ان کی شاعری میں بھی irony، ambiguity اور semantic instability موجود ہے۔
فرق صرف یہ ہے کہ:
غالب ambiguity کو aesthetic بناتے ہیں،
جبکہ اقبال ambiguity کو resolution میں بدلنا چاہتے ہیں۔
اسی لیے جدید ذہن غالب کو زیادہ قریب محسوس کرتا ہے، کیونکہ جدید شعور certainty سے زیادہ سوال کو اہمیت دیتا ہے۔
نتیجہ
غالب اور اقبال کا تقابل دراصل دو مختلف ذہنی رویّوں کا تقابل ہے۔
غالب کا ذہن سوال اٹھاتا ہے،
اقبال کا ذہن حرکت پیدا کرتا ہے۔
غالب حیرت اور تشکیک کے شاعر ہیں،
اقبال اضطراب اور بیداری کے۔
اس لیے شاید سوال یہ نہیں کہ “بڑا کون ہے؟” بلکہ یہ ہے کہ ہمیں کس چیز کی ضرورت زیادہ محسوس ہوتی ہے:
سوال؟ یا تحریک؟
غالب کی عظمت بے چینی کو سوال میں بدل دینے میں ہے، جبکہ اقبال کی عظمت زوال زدہ تہذیبی شعور کو بے چین کر دینے میں۔
اقبال کی فارسی شاعری بھی محض اتفاق نہیں، ایک شعری کوشش ہے اس تہذیبی ورثے سے جڑے رہنے کی جس کو سرکاری پالیسی کے تحت ختم کیا جا رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ تقسیم سے پہلے ڈھاکہ سے لے کر پشاور تک ہر مکتب اور مدرسے میں فارسی پڑھائی جاتی تھی۔ ہمارے بزرگ اسی تہذیبی تسلسل کی علامت کے طور پر گھروں میں گلستان و بوستان کی کاپیاں رکھتے تھے۔ فیض کا مصرعہ "سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد بھی" سعدی کی ایک داستان سے لیا گیا ہے۔
ایک واقعہ یاد آگیا جسے میرے محترم دوست سید نصرت زیدی نے سنایا تھا کہ سر سید انگلستان گئے وہاں انکی ملاقات ملکہ انگلستان سے ہوئی جنہوں نے پوچھا کہ برصغیر کا سب سے بڑا،شاعر کون ہے سر سید نے کہا ابراہیم ذوق۔۔اس پر ملکہ نے کہا کہ پھر لوگ غالب غالب کیوں کہتے ہیں تو،سر سید احمد خان نے جواب دیا کہ غالب تو دنیا کا،بڑا شاعر ہے آپ نے تو برصغیر کا بڑا،شاعر پوچھا تھا