اردو ادب میں شاید ہی کوئی سوال ایسا ہو جس پر اتنی شدت، جذباتیت اور فکری تقسیم پائی جاتی ہو جتنی “غالب بڑا ہے یا اقبال؟” کے سوال پر۔ مسئلہ یہ نہیں کہ دونوں میں سے بڑا شاعر کون ہے؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم شاعری کو پرکھتے کس معیار پر ہیں۔
اقبال کے معاملے میں ایک اہم مسئلہ یہ بھی رہا ہے کہ جذباتی عقیدت نے انہیں محض شاعر کے بجائے ایک مقدس ہستی بنا دیا ہے- نتیجتاً تنقید اکثر گستاخی محسوس ہونے لگتی ہے۔ حالانکہ کسی بھی بڑے شاعر کی اصل عظمت اسی میں ہوتی ہے کہ وہ تنقید کو دعوت دے، نہ کہ تنقید سے بالاتر قرار پائے۔ یہ مسئلہ صرف اقبال تک محدود نہیں؛ غالب، میر، فیض، حتیٰ کہ مغربی روایت میں نطشے اور گوئٹے تک اس تقدیس کا شکار رہے ہیں۔
لیکن اقبال پر ہونے والی تنقید میں بھی بعض اوقات چند اہم باریکیاں نظرانداز ہو جاتی ہیں۔
فکری تضادات: کمزوری یا عہد کی پیچیدگی؟
اقبال کے ہاں بظاہر کئی تضادات دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف “سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا” ہے، دوسری طرف مذہبی مرکزیت کا واضح رجحان۔ کہیں عقل کو غلامی سے آزاد کروانے کی بات ہے، تو کہیں عشق کو عقل پر فوقیت دی گئی ہے اور عقل کو “عیار” کہا گیا ہے۔
یہ اعتراض نیا نہیں۔ خود اقبال کے ابتدائی ناقدین بھی ان کے ہاں فکری عدمِ تسلسل کی نشاندہی کرتے رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر تضاد لازماً فکری ابہام ہی ہوتا ہے؟
بعض اوقات تضاد دراصل ایک ایسے ذہن کی علامت ہوتا ہے جو تہذیبی بحران کے بیچ کھڑا ہو۔ اقبال بیسویں صدی کے اس مسلمان ذہن کی نمائندگی کرتے ہیں جو بیک وقت نوآبادیاتی جدیدیت، اسلامی روایت، قومیت، امت، روحانیت، سرمایہ داری اور یورپی عقلیت — سب سے ایک ساتھ نبرد آزما ہے۔
اسی لیے اقبال کے ہاں “خرد” کبھی رہبر بنتی ہے اور کبھی محض حسابی عقل۔ “عشق” بھی محض جذباتیت نہیں بلکہ تخلیقی توانائی اور existential vitality کی علامت بن جاتا ہے۔ اگرچہ اقبال ہمیشہ ان distinctions کو پوری وضاحت سے قائم نہیں رکھ پاتے، لیکن اسے محض “گدلا پن” کہہ دینا شاید معاملے کو حد سے زیادہ سادہ بنا دیتا ہے۔
جبکہ غالب اُس زمانے کے شاعر ہیں جب تہذیبی انحطاط اور سیاسی زوال تو شروع ہو چکا تھا مگر ابھی اُس ذہنی کشمکش کا آغاز نہیں ہوا تھا جو مغربی افکار سے آگاہی کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔
غالب کا سوال اور اقبال کا اضطراب
غالب کی سب سے بڑی قوت ان کا سوال اٹھانے والا ذہن ہے۔ ان کے ہاں تشکیک، استفہام اور self-reflexive شعور غیر معمولی شدت کے ساتھ موجود ہے۔
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسد
عالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے
غالب metaphysical certainty کو مسلسل destabilize کرتے ہیں۔ ان کے ہاں سوال، جواب سے بڑا ہے۔
لیکن اقبال کے ہاں سوال کی نوعیت مختلف ہے۔
غالب ontological حیرت کے شاعر ہیں، جبکہ اقبال تہذیبی زوال اور اجتماعی بحران کے شاعر۔ غالب وجود پر سوال اٹھاتے ہیں، اقبال زوال پر ردِّعمل دیتے ہیں۔ اسی لیے غالب کا لہجہ contemplative ہے جبکہ اقبال کا prophetic اور mobilizational۔
یہ کہنا درست ہو سکتا ہے کہ غالب intellectually زیادہ subtle اور refined ہیں، لیکن یہ کہنا کہ اقبال محض غالب کے تقلیدی شاعر ہیں، تاریخی اور فنی اعتبار سے کمزور دعویٰ معلوم ہوتا ہے۔
مثنوی کو نئی فکری جہت دی،
اردو نظم میں خطیبانہ آہنگ پیدا کیا،
فارسی روایت کی جدید تشکیل کی،
اور “خودی” جیسے تصور کے ذریعے شاعری کو اجتماعی و تاریخی شعور سے جوڑا۔
یہ سب محض تقلید سے پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔
“فکرِ تغیر” — اقبال کا اصل مرکز
اکثر کہا جاتا ہے کہ اقبال کے ہاں اگر کچھ واقعی اہم ہے تو “فکرِ تغیر”۔ لیکن شاید یہی ان کی سب سے بڑی فکری اہمیت بھی ہے۔
برصغیر کے مسلمان ذہن میں جہاں تقدیر پرستی، جمود اور passive spirituality غالب تھے، وہاں حرکت، تخلیق، خودی اور creative action کا تصور معمولی چیز نہیں تھا۔
یہ درست ہے کہ اقبال کا فلسفہ مکمل systematic نہیں۔ وہ نہ کانٹ ہیں، نہ ہیگل اور نہ نطشے۔ لیکن وہ شاعر-مفکر ہیں، اور شاعرانہ فکر ہمیشہ منطقی نظام سے زیادہ فکری impulse پیدا کرتی ہے۔
نظیر، غالب اور اقبال: فرقِ جہات
یہ بات درست ہے کہ اردو نظم کی بنیادیں نظیر اکبر آبادی کے ہاں پہلے سے موجود ہیں۔ لیکن نظم صرف ہیئت کا نام نہیں؛ فکری organization بھی اہم ہے۔ نظیر نے عوامی زندگی اور موضوعاتی وسعت دی، جبکہ اقبال نے نظم کو:
یہ superiority کا نہیں بلکہ مختلف جہات کا فرق ہے۔
کیا اقبال لائقِ تقلید ہیں؟
اگر تقلید سے مراد blind imitation ہے تو شاید نہیں۔
اقبال کے سیاسی تصورات بدلتے رہے، قومیت پر ان کا مؤقف پیچیدہ رہا، اور ان کی شاعری میں کئی internal tensions موجود ہیں۔ لیکن کسی بڑے شاعر کی اصل قدر تقلید نہیں بلکہ تحریک ہوتی ہے۔
غالب سے سوال کرنے کا سلیقہ سیکھا جا سکتا ہے۔
اقبال سے حرکت، بے چینی، خودی اور جمود شکنی کا جذبہ۔
یہاں ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے۔ بظاہر غالب زیادہ عقلی، refined اور واضح محسوس ہوتے ہیں، لیکن ان کی شاعری میں بھی irony، ambiguity اور semantic instability موجود ہے۔
غالب ambiguity کو aesthetic بناتے ہیں،
جبکہ اقبال ambiguity کو resolution میں بدلنا چاہتے ہیں۔
اسی لیے جدید ذہن غالب کو زیادہ قریب محسوس کرتا ہے، کیونکہ جدید شعور certainty سے زیادہ سوال کو اہمیت دیتا ہے۔
غالب اور اقبال کا تقابل دراصل دو مختلف ذہنی رویّوں کا تقابل ہے۔
غالب کا ذہن سوال اٹھاتا ہے،
اقبال کا ذہن حرکت پیدا کرتا ہے۔
غالب حیرت اور تشکیک کے شاعر ہیں،
اقبال اضطراب اور بیداری کے۔
اس لیے شاید سوال یہ نہیں کہ “بڑا کون ہے؟” بلکہ یہ ہے کہ ہمیں کس چیز کی ضرورت زیادہ محسوس ہوتی ہے:
غالب کی عظمت بے چینی کو سوال میں بدل دینے میں ہے، جبکہ اقبال کی عظمت زوال زدہ تہذیبی شعور کو بے چین کر دینے میں۔
اقبال کی فارسی شاعری بھی محض اتفاق نہیں، ایک شعری کوشش ہے اس تہذیبی ورثے سے جڑے رہنے کی جس کو سرکاری پالیسی کے تحت ختم کیا جا رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ تقسیم سے پہلے ڈھاکہ سے لے کر پشاور تک ہر مکتب اور مدرسے میں فارسی پڑھائی جاتی تھی۔ ہمارے بزرگ اسی تہذیبی تسلسل کی علامت کے طور پر گھروں میں گلستان و بوستان کی کاپیاں رکھتے تھے۔ فیض کا مصرعہ "سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد بھی" سعدی کی ایک داستان سے لیا گیا ہے۔
ایک واقعہ یاد آگیا جسے میرے محترم دوست سید نصرت زیدی نے سنایا تھا کہ سر سید انگلستان گئے وہاں انکی ملاقات ملکہ انگلستان سے ہوئی جنہوں نے پوچھا کہ برصغیر کا سب سے بڑا،شاعر کون ہے سر سید نے کہا ابراہیم ذوق۔۔اس پر ملکہ نے کہا کہ پھر لوگ غالب غالب کیوں کہتے ہیں تو،سر سید احمد خان نے جواب دیا کہ غالب تو دنیا کا،بڑا شاعر ہے آپ نے تو برصغیر کا بڑا،شاعر پوچھا تھا