کچھ خواب ہی تو تھے
کچھ خواب ہی تو تھے ٹوٹ جائیں بےشک ہوا میں گھل کر روٹھ جائیں ہم سپنے دیکھنے والے بنے آپ تو ہمیں جان کر بھی بھول جائیں وعدہ کرتے رہتے ہیں عشق کا ہم پر آپ کا جبر ہے، چاہے لوٹ جائیں لاہور کے پیڑ پودے، محّبت میں گم بھاڑ میں تیری سرمایہ داری کے اصول جائیں کل کو ناچتے ہوئے، ہنستے وقت گفتوگوِ شہر میں تو اور میں رُل جائیں میں جو زمیں کا عاشق نہیں، مشعوق ذرؔا تکتا ہوں امیدیں جیسے پاکستان میں بچے سکول جائیں



















