میں ہوا ہوں، تجھے کیا؟ تو بھی ہوا عشق مجھے
میری کیا، پوچھتا ہے اپنی سنا عشق مجھے
پہلے پہلے میں بہت جس پہ ہنسا کرتا تھا
آخرکار وہی کرنا پڑا عشق مجھے
میری وحشت میری آنکھوں سے نہ ظاہر ہوگی
ہاں، کبھی تجھ سے اگر ہو بھی گیا عشق مجھے
ایسی یکسوئی کہاں سے مجھے حاصل ہے
کیسے ہو جاتا ہوں ہر روز نیا عشق مجھے











