معیشت : مفروضے اور ناکامیاں
دو حصوں پر مشتمل مضمون کا یہ پہلا حصہ ہے جو ملک کو درپیش موجودہ معاشی بحران کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ وہ مقبول آرا ہیں جس کی ہر سو سرگوشیاں جاری ہیں۔ اور جیسا کہ بالکل واضح ہے موجودہ بحران کے فوری حل کے لئے جو بھی کوشش کی جائے گی وہ ہمیں مزید ایک بحران اور پھر مزید ایک اور بحران کی طرف لے جائے گی۔ ہماری قومی قیادت کا اولین کام یہ ہے کہ وہ ان حقائق کو پہچانیں جنہوں نے ملک کو بار بار پیش آنے والے ان حالات سے دو چار کیا اور خود کو ان مشکلات سے نکالنے کیلئے طویل راستہ اختیار کیا۔ ہمارے پاس بہت سے مواقع اور وسائل موجود ہیں لیکن کسی بھی قیادت کے لئے معاشی ڈھانچے کی ضروری تنظیم نو ایک مشکل اور سخت کام ہے۔ دائمی تجارتی اور مالیاتی خسارے سے دو چار یہ ملک قرضوں کے بہت زیادہ بوجھ، کھانے اور روزگار کے مواقع کی منتظر تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، سمجھ میں نہ آنے والی مذہبی مداخلت، خود غرضی قلیل مدتی رویے اور بھوکے اور حق رائے دہی سے محروم لوگوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ہماری مختلف قیادتوں میں آج تک سچائی سے پردہ اٹھانے کے لئے درکار اعتماد، ہمت یا ایمانداری کے ساتھ ساتھ عبوری مشکلات سے نمٹنے کے لئے درکار صبر کی کمی بھی پائی جاتی ہے لیکن بہرحال بحالی کا کٹھن سفر شروع ہونا چاہیے ورنہ بصورت دیگر پاکستان ایک ناکام ریاست کی کھائی میں گرتا رہے گا۔
ان خامیوں میں سے پہلی یہ ہے کہ میں حال ہی میں استعمال ہونے والی اصطلاح کو اجاگر کرنا چاہتا ہوں جو یہ ہے کہ : اگر آئی ایم ایف سے ہونے والا معاہدہ ناکامی سے دو چار ہوا تو پیسہ نہیں آئے گا اور پاکستان برباد ہو جائے گا۔ یہ غلط ہے۔ جو رقم آئی ایم ایف اور دوست ممالک سے آتی ہے، تو اگر اور جب بھی آئی ایم ایف معاہدہ ہو جائے تو وہ آمدنی ہرگز نہیں ہے۔ یہ وہ قرضے ہیں جو قوموں کے مستقبل کو کھا جاتے ہیں۔ یہ منطقی طور پر واضح ہے کہ اگر ہماری برآمدی آمدن ہماری موجودہ درآمدات اور قرض کی سروسز کی موجودہ ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ناکافی ہے تو نئے قرضے صرف ملک کے مستقبل کو قرضوں کے گرداب میں پھنسانے اور ہماری کھپت کو مزید کم کرنے کا سبب بنیں گے۔ جب تک ہماری برآمدات میں اضافہ نہیں ہوتا ہمیں مزید قرضے لینے کے بجائے درآمدات کو روک کر اپنی چادر کے مطابق پائوں پھیلانے چاہئیں۔ ایک اور دیرینہ بیانیہ یہ رہا ہے کہ : متبادلات کی درآمدات ایک حل ہے کیونکہ یہ ہماری غیر ملکی کرنسی کی ضرورت کو کم کرتی ہے اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے۔ یہ بھی غلط ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو پچھلے 70 سالوں سے ہماری صنعت کاری کی ساخت پر حاوی رہا ہے اور ہمیں کیا دیکھنے کو ملا؟
تیار شدہ اشیا کا ناقص معیار ایک طرف عالمی معیار سے مطابقت نہیں رکھتا اور دوسری طرف غیر ملکی کرنسی کے قرضوں کا بوجھ بڑھتا گیا۔ یہ واضح رہے کہ یہ سوچ ہمارے لئے اچھی ثابت نہ ہو سکی۔ بہرحال ہم جو زیادہ تر اشیا تیار کرتے ہیں ان میں بھی درآمدی مواد موجود ہوتا ہے، چاہے وہ پلانٹ اور مشینری ہو یا خام مال یا رائلٹی کی ادائیگی وغیرہ کا معاملہ ہو۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور اس کے نتیجے میں درآمدی متبادل مصنوعات کی طلب کے سبب ان اجزا کی درآمدات نے درآمد نہ کر کے بچائے گئے زرمبادلہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ تیسرا عقیدہ : حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانا ہے جیسا کہ تاجر برادری کا خیال ہے اپنی درآمدی متبادل ضروریات کے لئے غیر ملکی کرنسی کی کمی کے لئے۔ یہ بھی غلط ہے کاروباری مالکان روایتی طور پر اپنی اہلیت کی پیمائش مقامی صارفین کو اپنی مصنوعات کی کامیابی کے ساتھ فروخت اور اس کے نتیجے میں ہونے والے منافع کے لحاظ سے کرتے ہیں اس طرح ان کے پاس مقامی کرنسی کی استعداد ہوتی ہے جس سے وہ اپنے اخراجات کی ادائیگی کر سکتے ہیں پھر چاہے وہ مقامی ہو یا درآمدی، وہ اپنی درآمدی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے غیر ملکی آمدن پیدا کرنے کو اپنی ذمہ داری تصور نہیں کرتے وہ یہ تصور کرتے ہیں کہ اسے مارکیٹ میں دستیاب ہونا چاہئے یا حکومت کو اس کی دستیابی یقینی بنانی چاہئے۔
لیکن حکومت برآمدکنندہ نہیں ہے اور نہ ہی اسے غیر ملکی آمدنی حاصل ہوتی ہے متحمل مزاج والدین کی طرح یہ درآمدکنندہ کو غیر ملکی کرنسی کی فراہمی کے لئے بیرونی ذرائع سے قرض پر انحصار کرتی ہے اس کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو ہم دیکھتے ہیں کہ غیر ملکی قرضوں کا بوجھ بڑھتا جاتا ہے اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت واشگاف الفاظ میں بتائے کہ وہ اس بات کی متحمل نہیں ہو سکتی کہ اسے غیر ملکی کرنسی کی فراہمی کا آخری سہارا تصور کیا جائے کاروباری برادری کو اپنی درآمدی ضروریات کے لئے غیر ملکی کرنسی کمانے یا اس کا بندوبست کرنے کی اپنی ذمہ داری کوپہچاننا چاہئے۔ خاص طور پر یہ چوتھا عقیدہ رائج ہے ہمیں بلاامتیاز براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ یہ معیشت کو اضافہ بخشے گی اور غیر ملکی کرنسی کے خسارے کو کم کرے گی خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی غیر ملکی سرمایہ کاروں کو فروخت بھی فائدہ مند ہے۔ غلط۔ غیر ملکی سرمایہ کار بجا طور پر اپنی آمدن غیر ملکی کرنسی میں واپس بھیجنے کی توقع رکھتے ہیں اور ان کی متوقع وصولی کی شرح (20 فیصد سالانہ) دراصل غیر ملکی قرض دہندگان کو قابل ادائیگی سود کی شرح (5 فیصد سالانہ ) سے کہیں زیادہ ہے اگر بنیادی منصوبہ بڑی حد تک مقامی مارکیٹ میں قابل عمل ہوتا ہے تو اس کی آمدنی پاکستانی روپے میں ہو گی یہ منصوبہ جتنا زیادہ کامیاب ہو گا اتنا ہی زیادہ روپے میں منافع ہو گا اور منافع کی غیر ملکی کرنسی میں واپسی کا حجم بھی اتنا ہی زیادہ ہو گا سرکاری اداروں کو غیر ملکی مالکان کے حوالے کرنے کا نتیجہ بھی یہی نکلے گا۔
یہ غلط پالیسیوں اور غلط مفروضوں کے حوالے سے دو حصوں پر مشتمل مضمون کا دوسرا حصہ ہے جس نے ہماری قومی معیشت کو تباہی سے دوچار کیا ہے اور ہمیں وقتاًفوقتاً ایسے بحرانوں کی طرف لے جانے کے ذمہ دار ہیں جس میں ڈونرز کی مسلسل مداخلت اور اس کے نتیجے میں قرضوں کا بڑھتا ہوا پہاڑ شامل ہے۔ یہاں میں چار مزید بنیادی غلطیوں کو بیان کروں گا جو ہمیں اس مقام تک لے آئی ہیں اور جن غلطیوں کی اصلاح ضروری ہے۔ سب سے پہلے میں اس بات پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں کہ جس جی ڈی پی کو اس حساب میں بطور ڈینومیینیٹر استعمال کیا جاتا ہے تو بلند افراط زر کے ماحول میں قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور اس وجہ سے یہ ایک گمراہ کن ڈینومینیٹر ہو سکتا ہے۔ دوسرا غیر ملکی قرضوں کے حوالے سے اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ آیا قرض لینے والے نے بہت زیادہ قرض لیا ہوا ہے یا نہیں تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جاسکے کہ آیا اس کے پاس قرض کی ادائیگی کرنے کیلئے درکار غیر ملکی آمدنی ہے یا نہیں۔ درحقیقت ہماری درآمدات ہماری برآمدات سے زیادہ ہیں جس کی وجہ سے ہم خسارے میں رہتے ہیں 1960ء کی دہائی سے ہمارے پاس غیر ملکی قرض یا ایف ڈی آئی کے اخراجات پورے کرنے کی کوئی صلاحیت نہیں ہے۔
ایک اور غلطی جو یکے بعد دیگرے حکومتوں نے کی وہ یہ ہے کہ مقامی اخراجات جو کہ روپے میں ہوتے ہیں ان کےعوض غیر ملکی کرنسی میں قرض لیتے ہیں ایسے قرضوں کی فراہمی غیر ملکی قرضوں میں اضافے کا ایک اور ذریعہ ہے یوں پاکستان غیر ملکی قرضوں کے جال میں پھنس گیا ہے۔ چھٹا غلط مفروضہ یہ ہے کہ مہنگائی میں اضافہ غیر ملکی درآمدات کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کا نتیجہ ہے جسے ہم کنٹرول نہیں کر سکتے یہ غلط بھی ہے اور خطرناک بھی، اصل میں روپے کی قدر میں گراوٹ اور افراط زر میں اضافے کی وجہ مرکزی بینک یعنی اسٹیٹ بینک آف پاکستان ہے۔ اس کے نتیجے میں مالیاتی خسارے کو چلانے کے حکومتی رجحان کو روکنے میں ناکامی ہوئی جس نے رقم کی فراہمی میں تیزی سے اضافہ کیا۔ اس نے اس براہ راست حکومت کو قرض دے کر اور حکومت کیلئے بینکوں سے بلاروک ٹوک قرضہ لینے کیلئے درکھلے چھوڑ کر اس عادت کو آسان بنایا۔ قرض دے کر بینک اور مرکزی بینک دونوں رقم کی فراہمی میں اضافہ کرتے ہیں چونکہ اسٹیٹ بینک نے حکومت کو بینکوں اور خود اسٹیٹ بینک سے قرض لینے سے نہیں روکا تو اس لئے اسٹیٹ بینک ہی رقم کی فراہمی افراط زر اور روپے کی قدر میں گراوٹ کا ذمہ دار ہے۔
اگر اسٹیٹ بینک نے حکومت کو محدود رکھا ہوتا اور اس کا رخ اپنے قرض لینے کی ضروریات بالخصوص انفرادی بچت کرنے والوں اور غیر بینکوں کی ادارہ جاتی بچت کرنے والے اداروں کی طرف موڑ دیا ہوتا تو اس سے ناصرف حکومت کے اخراجات پر پابندی لگ جاتی بلکہ اضافی سرکاری اخراجات سے پیدا ہونے والی رقم کی فراہمی میں بھی اضافہ نہ ہوتا اور ہم نے جائیداد اور گاڑیوں میں بچت کے ذریعے رقم کی سپلائی میں بیش بہا اضافہ نہ دیکھا ہوتا اور خوراک، جائیداد اور گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے سے گریز کیا ہوتا تو سرمایہ کم مارجن کے حامل کاروبار سے جائیداد اور پائیدار سرمایہ کاری کی طرف منتقل نہیں کیا جاتا۔ کسی بھی خاندان یا کاروباری بجٹ کا صحت مند نقطہ نظر یہ ہو تا ہے کہ حقیقت پسندانہ طور پر اس کی آمدنی کی پیشں گوئی پہلے کی جائے کسی قسم کا اضافی قرض لینے کا سوچا تک نہ جائے (جو بہرحال کھپت کوسہارا دیتا ہے) اور آمدنی کی پیش گوئی کے اندر رہتے ہوئے سرکاری اخراجات کے حجم کو کم کیا جائے اس سے حکومت کے حجم کو کم کرنے اور پیداواری اقدامات کی بنیاد پر انفرادی اخراجات سے حاصل ہونے والے فائدے کی پیمائش پر مبنی سرگرمیوں کیلئے رقم کو ترجح دینے کی سخت ضرورت کا پتہ چل جاتا ہے۔
ناقابل برداشت سرکاری اخراجات نے حکومت کو درآمدی ڈیوٹی محصولات کو برقرار رکھنے اور بڑھانے کا عادی بنا دیا ہے۔ ہماری حکومت کے اس عادت سے فائدہ اٹھانے سے صنعتوں کیلئے بین الاقوامی سطح پر مسابقتی برآمدکنندگان بننے کے پیمانے اور مصنوعات کے معیار کو بڑھانے کی ضرورت ختم ہو گئی ہے۔ ایک اور بے ضابطگی جس کا نتیجہ برآمد ہوا ہے وہ یہ ہے کہ درآمدکنندگان کیلئے موثر شرح مبادلہ وہ ہے جس کا نتیجہ درآمدی ڈیوٹی کی شرح کو مارکیٹ ایکسچینج ریٹ میں شامل کرنے سے ہوتا ہے پھر بھی برآمدکنندگان اپنی وطن واپسی پر یہ موثر زرمبادلہ حاصل نہ کر کے برآمدات کی غیر مسابقتی قیمتوں کے تعین پر مجبور ہیں۔پھر یہ کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کو روکنا کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے۔ پاکستان کی آبادی 25 سال میں 35 کروڑ تک پہنچنے کی توقع ہے اس خطرناک پیش گوئی نے میری کئی راتوں کی نیندیں حرام کر دیں ہماری معیشت کا حجم کم ہے مستقبل میں آبادی میں ہونے والے اضافے کو تو چھوڑ دیں یہاں تک کہ تمام درست حکمت عملیوں کے ساتھ بھی یہ معیشت ہماری موجودہ آبادی کو کوئی چیز فراہم نہیں کرسکتی۔ میں نے دیگر اہم شعبوں جیسے زراعت، تعلیم ، ہنرمندی وغیرہ کا احاطہ کرنے کی کوشش نہیں کی اور مجھے یقین ہے کہ میرے قارئین کے پاس مزید اچھی اور فائدہ مند تجاویز بھی ہوں گی میرا نکتہ صرف عقائد اور اطراف کی چیزیں حاصل کرنے سے ہے، ٹھیک ہے باقی چیزیں خودبخود ٹھیک ہونا شروع ہو جائیں گی۔
( صاحب مضمون مشرق وسطیٰ ، مشرق بعید، افریقہ اور یورپ کی منڈیوں کے حوالے سے ایک سینئر بین الاقوامی بینکارہیں )