Photo by insta @ali_awaiss

seen from Switzerland

seen from Switzerland
seen from China
seen from China
seen from Russia
seen from Spain
seen from Switzerland
seen from Canada
seen from United States
seen from United States
seen from United States
seen from United States

seen from Switzerland

seen from United Kingdom
seen from Spain
seen from Switzerland
seen from United States
seen from Switzerland
seen from Croatia

seen from Switzerland
Photo by insta @ali_awaiss

Anya is live and ready to show you everything. Watch her strip, dance, and perform exclusive shows just for you. Interact in real-time and make your fantasies come true.
Free to watch • No registration required • HD streaming
A Beautiful Memories of Engr. Muhammad Faisal Imran in Bahrain, Sawat, Pakistan. It was very beautiful and amazing trip for me. We seen the Beautiful Places in Bahrain, Sawat. • • • • • • • • • • My name is Engr. Muhammad Faisal Imran. I am a Islamic Scholar and Professionally a Mechanical Engineer. This is my official account. Please 👇👇👇👇👇👇 Fellow me @engrfaisalimran Fellow me @engrfaisalimran Fellow me @engrfaisalimran . . . . . . . #muhammadfaisalimran #madanichannel #madanichannellive #new #newpic #madanichanneleng #digitalmarketing #digitalartist #mechanicalengineering #mechanicalengineeringtechnology #nicepicture #pictureoftheday #lahore #pakistan #sawat #bahrain #kpk #maree #tourism #digitalart #digitalmarketingagency #realpicture #uk #germany #usa #india #italy #natural #naturalbeauty (at Mahodand Lake, Swat Kalam) https://www.instagram.com/p/CSS-YmIIxo-/?utm_medium=tumblr
Video by Insta @FahadHanifff

Anya is live and ready to show you everything. Watch her strip, dance, and perform exclusive shows just for you. Interact in real-time and make your fantasies come true.
Free to watch • No registration required • HD streaming
دریا ئے کنہار
بابو سرٹاپ سے بہنے والا دریائے کنہار 166 کلومیٹر طویل اور اپنے یخ بستہ پانی کے علاوہ ٹراؤٹ فش کیلئے بھی مشہور ہے۔ یہ دریا وادی کاغان کے حسن میں قدرتی اضافہ کرتا ہے۔ یہاں کی مچھلی اپنے ذائقے اور جسامت کے حساب سے بے مثال ہوتی ہے۔ کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ٹرائوٹ مچھلی کی افزائش کیلئے خصوصی اقدامات کئے ہیں۔ جہاں ایک طرف خیبر پختونخوا انتظامیہ دریا کے گرد درخت لگا رہی ہے وہاں رواں سال ٹرائوٹ کی افزائش کیلئے تیس ہزار سے زائد ٹرائوٹ مچھلی کے بچے چھوڑے گئے۔ بے دریغ شکار کے باعث ٹرائوٹ کی نسل معدوم ہو رہی تھی جس کی وجہ سے اس کے شکار پر دو سال کیلئے پابندی لگائی گئی۔ ٹرافی فشنگ کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے، جس میں کینیڈا اور اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ مدد فراہم کرتے ہیں ۔ سیاحتی مرکز کی وجہ سے ٹرائوٹ مچھلی کا شکار کر کے دوبارہ مچھلی دریا میں چھوڑ دی جاتی ہے۔ مچھلی کے شکار کی وجہ سے دریا کنارے ریسٹورنٹس کے کاروبار پر فرق پڑا ہے۔ تیز بہاؤ کے حامل اس دریا پر قبل ازیں سی پیک منصوبہ میں شامل'' سکی کناری ڈیم ‘‘ کی تعمیر کا کام جاری ہے جو آئندہ دو برس تک مکمل ہو گا جس کی تعمیر کے بعد 870 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی۔ دریائے کنہار کو وادی کاغان کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے کیونکہ 166 کلومیٹر طویل یہ دریا اپنی تمام تر دلکشی، خوبصورتی اور رعنائی کے ساتھ پوری وادی میں سانپ کی طرح بل کھاتا، مچلتا، گنگناتا اور محبتوں کے نغمے سناتا رواں دواں ہے۔ دریائے کنہار ناران سے 48 کلومیٹر اوپر 14000 فٹ کی بلندی پر واقع لالو سر جھیل سے اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے لیکن ملکہ پربت کے گلیشیئرز اور دودی پت جھیل بھی اسے پانی فراہم کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ ویسے تو دریائے کنہار کا ہر نظارہ دلوں کو چھو لینے والا ہے لیکن شہزادہ سیف الملوک اور پری بدیع الجمال کی محبتوں کی رازدار جھیل سیف الملوک کے ساتھ اس کا ملاپ لافانی شاہکار ہے۔ دریا کا پانی اس قدر شفاف ہے کہ ایک کلو میٹر کی بلندی سے بھی آپ اس کی تہہ میں پڑے کنکر اور پتھر دیکھ سکتے ہیں جبکہ اس کا پانی اس قدر یخ بستہ ہے کہ گرمیوں میں بھی لوگ اس میں نہانے سے گریزاں ہوتے ہیں۔ اس دریا میں دنیا کی سب سے خوبصورت اور لذیذ مچھلی ٹراؤٹ پائی جاتی ہے۔ دریا کا برفیلا پانی اس کی افزائش کے لیے بے حد موزوں ہے۔ کنہار، دو الفاط یعنی پہاڑ اور نہار یعنی نہریں کا مجموعہ ہے۔ اس کا پانی آنکھوں کے امراض کے لیے بے حد اکسیر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار ہندوستان کی ملکہ نور جہاں کشمیر کی سیر کے لیے جارہی تھیں تو انہیں آشوب چشم ہو گیا، حکما ء کے مشورے پر ملکہ نے دریائے کنہار کے پانی سے اپنی آنکھیں دھوئیں تو انہیں آرام آگیا چنانچہ انہوں نے اسے دریائے نین سکھ کا نام دیا جوآج بھی زبان زد عام ہے۔ سڑک کے کنارے سفر کریں تو دریائے کنہار مسلسل پہاڑوں سے آنکھ مچولی کھیلتا نظر آتا ہے، کبھی پہاڑ اوجھل تو کبھی دریا اوجھل۔ اکثر لوگ دوران سفر اپنی گاڑیاں کھڑی کر کے دریا کے نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ دریا کے بے ترتیب پتھروں پر پاؤں رکھنا بعض اوقات جان لیوا ہوتا ہے لیکن اس کی نمی سے لبریز اور مختلف خوشبوؤں میں بسے ہوا کے دل آویز جھونکے دلوں پر ایک عجیب سی کیفیت طاری کر دیتے ہیں۔ رات کے وقت دریائے کنہار وادی کاغان میں چاندی کی ایک ٹیڑھی میڑھی لکیر کی طرح دکھائی دیتا ہے جو پہاڑوں اور چٹانوں سے لڑتا بھڑتا اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہتا ہے۔ دریائے کنہار، وادی کاغان، جل کھنڈ، بالا کوٹ اور گڑھی حبیب اللہ سے گزرتا بالاآخر وادی کشمیر میں داخل ہو جاتا ہے اور مظفرآباد سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر پتن کے مقام پر دریائے جہلم اور نیلم سے جا ملتا ہے۔ آزاد کشمیر کے پرچم پر بنی چار لکیریں یہاں کے چار دریاؤں کی نمائندگی کرتی ہیں، کنہار بنیادی طور پر خیبر پختونخوا کا دریا ہے لیکن ان چار میں سے ایک لکیر دریائے کنہار کو آزاد کشمیر کا دریا ہونے کا اعزاز بھی بخشتی ہے۔ نازش حسن بشکریہ دنیا نیوز
سوات کے موسم اور نباتات
وادیٔ سوات دریائے سوات اور اس کے معاونین دریاؤں کے نکاس کا علاقہ ہے۔ اس میں زرخیز سیلابی مٹی پائی جاتی ہے۔ سوات میں وسیع پیمانے پر کاشتکاری کی جاتی ہے۔ یہ اپنے گھنے جنگلوں اور مختلف النوع پھولوں اور پھلوں کی فصلوں کیلئے مشہور ہے۔ چاول، گندم، مکئی، جو، دالیں، سرسوں، گنا اور مسور یہاں کی بڑی فصلیں رہی ہیں۔ بہت اوپر کے علاقوں میں صرف ایک فصل ہوتی ہے جب کہ وادیٔ خاص میں دو فصلیں ہوتی ہیں۔ یہ سارا کا سارا علاقہ اتنا زرخیز ہے کہ اچھی فصلوں کے حصول کے لیے کوئی زیادہ محنت درکار نہیں ہوتی۔ لوگوں کی عام خوراک چاول، گندم اور مکئی ہیں۔ چاول سے یہاں کے لوگوں کی رغبت کا اظہار اس مشہور قول سے بخوبی ہو جاتا ہے۔ سوات کے لوگ بوڑھے ہو گئے لیکن چاول کھانے سے سیری نصیب نہیں ہوئی۔ جڑی بوٹیاں اور جھاڑیاں کثیر تعداد میں اگتی ہیں۔ عام طور پر جو درخت یہاں پائے جاتے ہیں وہ یہ ہیں چنار، سفیدا، بید، توت، سرس، پیستو، بکائن، کیکر، زیتون اور عناب اور بلندی پر اخروٹ اور املوک۔ پھل دار درختوں میں سیب، بہی، آڑواور ناشپاتی بہت عام ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ درختوں کی نئی اقسام پرانی اقسام کی جگہ لے رہی ہیں۔ سوات کے پہاڑ چیڑ اور دیودار کے جنگلات کے لیے مشہور رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں شہد پیدا ہوتا ہے۔ یہاں کا شہد معیار اور مقدار دونوں لحاظ سے نمایاں حیثیت کا حامل گردانا جاتا ہے۔ پالتوں جانوروں میں گائے، بھینس، بکری اور بھیڑ عام طور پر پائے جاتے ہیں۔ معاشرہ کے چند خاص طبقے جیسے گوجر، اجڑ اور گڈریا اپنی روزی کمانے کے لیے انہی پر انحصار کرتے ہیں۔ گھی، مکھن اور دودھ ہر طرف دستیاب ہے۔ سوات میں ان چیزوں کی پیداوار اپنی ضرورت سے زیادہ تھی، اس لیے انہیں برآمد کیا جاتا تھا۔ خوشحال خان خٹک نے سترہویں صدی میں پانی اور فصلوں کی فراوانی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: "گاؤں کے ہر گھر تک چھوٹی ندیوں کا پانی پہنچتا ہے۔ پانی کی اس بہتات کی وجہ سے فصلیں اچھی ہوتی ہیں اور غلہ ضرورت سے زیادہ پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے اسے ہر جانب برآمد کیا جاتا ہے۔" ہندوستان کے برطانوی حکام نے 1880ء اور 1890ء کی دہائیوں میں تیار کردہ ایک خفیہ ریکارڈ میں سوات کی آب و ہوا کو دیگر یوسف زئی میدانی علاقوں سے مختلف بتایا ہے۔ گرم موسم یہاں دیر میں شروع ہوتا ہے لیکن زیادہ مسلسل اور سخت ہوتا ہے۔ ہر طرف کھڑے پہاڑوں کی وجہ سے ہوا آزادی سے گزر نہیں سکتی۔ پہاڑوں میں بکثرت آنے والے طوفان فضا کو ٹھنڈا نہیں کرتے بلکہ نیچے کی وادیوں میں گرم پھنکارتی ہوا کا سبب بنتے ہیں۔ موسم سرما نیچے کے میدانی علاقوں کے مقابلے میں کم سخت ہوتا ہے اس لیے کہ ہوا نہیں چلتی۔ ہر طرف کھڑے برف پوش پہاڑ اس کی راہ مسدود کر دیتے ہیں۔ یہاں کے کم بلند علاقوں میں ہر سال برف نہیں گرتی۔ عموماً تین چار سالوں کے وقفہ کے بعد برف پڑتی ہے لیکن وہ حتمی نہیں ہے۔ سوات میں عام طور پر موسم سرما شدید نہیں ہوتا لیکن لمبا ہوتا ہے۔ میدانی علاقہ کے مقابلے میں یہاں آب و ہوا میں حبس زیادہ ہوتا ہے۔ ہیوں سانگ یہاں کے موسم کے بارے میں کہتا ہے کہ "یہاں گرمی اور سردی قابل برداشت ہیں، ہوا اور بارشیں موسم کے مطابق آتی ہیں۔ سلطان روم
سوات کا پرستان بشیگرام
سوات کے علاقہ بشیگرام کو مقامی لوگ پرستان بھی کہتے ہیں ۔ بشیگرام کا علاقہ سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے 51 کلومیٹرز کے فاصلے پر شمال کی جانب واقع ہیں۔ سطح سمندر سے اس کی اونچائی نو ہزار پانچ سو فٹ ہے، اس حسین وادی میں بہنے والا پر شور دریا، سبزہ اور رنگ برنگے پھول ہر ایک کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی محکمہ سیاحت نے اس حسین وادی میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے ہٹس اور پارک تعمیر کیا ہے تاکہ علاقے میں سیاحت کو فروغ دیا جا سکیں۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد علی سید کے مطابق ٹوارزم کارپوریشن ایسے پروجیکٹس لگا کر نئے علاقے سیاحوں کیلئے کھول رہے ہیں تاکہ شہروں پر بوجھ کم ہواور یہ بتا سکیں کہ ماحول دوست سیاحت کیا ہے۔ بشیگرام کا یہ خوبصورت علاقہ ابھی تک زیادہ تر ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی نظروں سے اوجھل ہیں تاہم سیاحت کے شوقین افراد اب بھی اس دلفریب وادی کا رخ کرتے ہیں جہاں ٹھنڈی ہواؤں، قدرتی مناظر، پر شور دریا اور پرندوں کی چہچہاہٹ کا مزہ لیتے ہیں۔ ایک سیاح کا کہنا ہے کہ اس جگہ پر قدرتی ہوائیں اور یہاں کا موسم بہت زبردست ہے۔ جگہ بہت زبر دست ہے لیکن روڈ ٹھیک نہیں ہیں۔ وادی بشیگرام کے آخری سرے پر گیارہ ہزار پانچ سو فٹ کی بلندی پر واقع طلسماتی اور دلفریب بشیگرام جھیل بھی موجود ہے تاہم رابطہ سڑک نہ ہو نے کے باعث ابھی تک سیاحوں کی نظروں سے اوجھل ہے۔