
seen from Türkiye
seen from United Kingdom
seen from Türkiye

seen from United States

seen from South Africa
seen from United States
seen from United Kingdom

seen from Egypt

seen from Chile
seen from Peru
seen from China
seen from United States
seen from Italy
seen from United States
seen from Canada
seen from Türkiye
seen from United States
seen from Türkiye
seen from United States

seen from United States

Anya is live and ready to show you everything. Watch her strip, dance, and perform exclusive shows just for you. Interact in real-time and make your fantasies come true.
Free to watch • No registration required • HD streaming
Our beautiful head piece and necklace is available to buy on https://www.instagram.com/p/CF4zo7SlgUT/?igshid=b22lw9hvn3fb
Alighiero, “Untitled”, 1988,
Signed, inscribed and dated 'Alighiero e Boetti "quattordici giugno" Peshwar 1988',
Embroidery on Canvas, 41 3/8 x 45¼in. (105 x 115cm.)
Christie’s
Kesineni Shivanath : ఎంపీని మర్యాదపూర్వకంగా కలిసిన పి. ఈశ్వర్
తేదీ : 14/05/2025. యన్ టి ఆర్ జిల్లా: (త్రినేత్రం న్యూస్); ఆంధ్రప్రదేశ
पाकिस्तान के पेशावर में दो गुटों के बीच गोलीबारी, 5 लोगों की मौत
पाकिस्तान के पेशावर (Peshawar) में दो पक्षों के बीच गोलीबारी में 5 लोगों की मौत हो गई और 6 अन्य घायल हो गए। वरिष्ठ पुलिस अधीक्षक (एसएसपी) ऑपरेशन काशिफ जुल्फिकार ने घटना को लेकर कहा कि यह घटना दो पक्षों के बीच गोलीबारी के दौरान हुई, जो व्यक्तिगत दुश्मनी का संकेत है। अधिकारी ने आगे घटना को लेकर कहा कि भारी पुलिस दल घटना स्थल पर पहुंचा और भाग रहे संदिग्धों की तलाश की जा रही है। रिपोर्ट के मुताबिक,…

Anya is live and ready to show you everything. Watch her strip, dance, and perform exclusive shows just for you. Interact in real-time and make your fantasies come true.
Free to watch • No registration required • HD streaming
In the southwestern Pakistani city of Quetta, hundreds of people continued a sit-in protest for the third consecutive day. They are protesting the January 3 killing of 11 Shi’ite Hazara coal miners in an attack claimed by the Islamic State (IS) extremist group-RFE/RL
In the southwestern Pakistani city of Quetta, hundreds of people continued a sit-in protest for the third consecutive day. They are protesting the January 3 killing of 11 Shi’ite Hazara coal miners in an attack claimed by the Islamic State (IS) extremist group-RFE/RL
کروشیہ والی مائی کا اللہ پر اعتقاد
ہاتھ سے کروشیہ کا ہنر اگرچہ آج کل کے مشینی دور میں کم کم ہی نظر آتا ہے، لیکن پشاور کی نرگس بی بی آج بھی اس ہنر کو زندہ رکھے ہوئے ہیں اور قدامت پسند معاشرے کی پرواہ کیے بغیر سڑک پر بیٹھ کر مزدوری کرتی ہیں۔ خریدار ان کے ساتھ قیمتوں پر تکرار کرتے ہیں اور بلآخر کوئی ایک چیز پسند کرکے لے جاتے ہیں۔ نرگس بی بی نے سوئیوں اور اون پر ہنرمندی کے ساتھ تیزی سے انگلیاں چلاتے ہوئے جی سی این اردو کو بتایا کہ وہ تقریباً 12 سال کی تھیں جب انہوں نے یہ ہنر سیکھا۔ ’میں تب سے کروشیہ کر رہی ہوں۔ میں اس سے لباس، جوتے، ٹوپیاں، بیڈ شیٹس، کمبل، سکارف سب کچھ بناتی ہوں۔ اکثر خواتین خود اون کے گولے لا کر اپنی پسند کی کوئی چیز بنانے کا آرڈر دے دیتی ہیں۔‘ نرگس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ہتھ گاڑی خود کھینچتے ہوئے پشاور کے مختلف علاقوں میں جاتی ہیں۔ وہ اپنے گھر کی واحد کفیل ہیں۔ ان کی چار بیٹیاں ہیں، جن میں ایک کی شادی اور جہیز بھی انہوں نے اسی مزدوری میں پورا کیا۔ نرگس بی بی کے مطابق وہ کروشیہ کے ہنر سے یومیہ 200 سے 500 روپے کما لیتی ہیں۔ انہوں نے کہا: Read the full article
پشاور بی آر ٹی کا سفر: 'ادھر ڈوبے، ادھر نکلے'
گاؤں سے لوٹتے ہوئے گاڑی جوں ہی موٹر وے سے نیچے اتری تو میرے اندر کا خوابیدہ ایڈونچر پسند نوجوان جاگ اٹھا اور گاڑی کو گھر رخصت کرتے ہوئے پشاور کے مشرقی سرے پر واقع بی آر ٹی سٹیشن کی سیڑھیاں چڑھ کر ٹکٹ لینے بوتھ پر چلا آیا۔ ٹکٹ بوتھ پر 'قومی شناخت' یعنی جم غفیر اور دھکم پیل دیکھ کر واپس لو ٹنے کو تھا کہ ایک ہینڈسم نوجوان بھاگتا ہوا آیا اور خود کو بی آر ٹی کا سٹیشن مینیجر اور میری تحریروں کا دلدادہ بتا کر گرم جوشی سے تعارف کروایا اور 'میرے لائق کوئی خدمت ' کا پوچھا تو میں نے فوراً سو روپے کا نوٹ نکال کر اسے ٹکٹ کی خدمت کا موقع فراہم کیا۔ لیکن پیسے لینے کی بجائے وہ بھاگ کر ٹکٹ بوتھ کے اندر گیا اور 50 روپے کا ٹکٹ لاکر میرے ہاتھ پر رکھا اور مجھے جم غفیر اور دھکم پیل سے بچاتے ہوئے سیڑھیوں کے پاس لا کر گرم جوشی اور شائستگی سے رخصت کیا۔ نیچے اتر کر میں دو قطاروں میں سے ایک قطار میں کھڑا ہو گیا۔ 14 اگست کی تپتی ہوئی حبس زدہ سہ پہر میں میرا خیال تھا کہ روایتی اور تکلیف دہ انتظار کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن حیرت انگیز طور پر ایک منٹ سے بھی کم وقت میں بی آر ٹی بس ہمارے سامنے آ کر رکی۔ چونکہ اس منصوبے کا صرف ایک دن پہلے ہی افتتاح ہوا تھا، اس لیے عام لوگوں کا جوش و خروش بلکہ ندیدہ پن اور بے ترتیبی پورے جوبن پر تھی۔ ایک دوسرے کو دھکے دیتے ہوئے ہم بس میں داخل ہوئے تو شور و غل اور رش کے باوجود بھی اندر کا ٹھنڈا اور سہولت آمیز ماحول ایک سرشار کر دینے والا احساس دلانے کے لیے کافی تھا۔ چند سیکنڈ رکنے کے بعد بس روانہ ہوئی۔ بہت سے نوجوان بس میں موجود وائی فائی کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لائیو ویڈیوز بناتے اور اس پر کمنٹری کرتے رہے۔ پرانے شہر کے رش کو محفوظ ٹریک سے چیرتے ہوئے بس چند منٹ Read the full article