When Dr. Hafiz Waleed Malik completed his MBBS studies late last year, he was awarded 29 gold medals for topping various subjects. Perhaps t
seen from United States

seen from United States
seen from Japan

seen from Malaysia

seen from United States
seen from Indonesia
seen from China
seen from United States
seen from United States

seen from Russia
seen from United States
seen from United States
seen from United States

seen from United States
seen from Maldives
seen from Poland
seen from United States
seen from United States

seen from Indonesia

seen from Indonesia
When Dr. Hafiz Waleed Malik completed his MBBS studies late last year, he was awarded 29 gold medals for topping various subjects. Perhaps t

Anya is live and ready to show you everything. Watch her strip, dance, and perform exclusive shows just for you. Interact in real-time and make your fantasies come true.
Free to watch • No registration required • HD streaming
Punjab medical staff go on hunger strike over non-availability of COVID-19 protection gear - SUCH TV
Punjab medical staff go on hunger strike over non-availability of COVID-19 protection gear – SUCH TV
[ad_1]
Dozens of Pakistani doctors and nurses have gone on a hunger strike to protest against the lack of personal protective equipment (PPE) available for frontline medical staff treating coronavirus patients.
Health workers have complained for weeks that the country´s hospitals are suffering chronic shortages of safety gear, prompting the arrest of more than 50 doctors who called for more…
View On WordPress
Some Pakistani doctors have fake degrees بعض پاکستانی ڈاکٹرز کے پاس جعلی ڈگریاں ہیں #Karachi, #Pakistan, #PakistaniDoctors, #QaumiAkhbar, #Ticker, #اردونیوز, #پاکستان, #قومیاخبار, #کراچی
Check out @bbcworldservice’s Tweet:
طبی معائنے کے حوالے سے پاکستان دوسرا بد ترین ملک
پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں نہ صرف صحت کی سہولیات کا فقدان ہے، بلکہ وہ مریضوں کے معائنے کے حوالے سے بھی بدترین پوزیشن پر موجود ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں کہ پاکستان میں ڈاکٹرز کی سخت قلت ہے، تاہم ایک حالیہ عالمی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ پاکستان مریضوں کے طبی معائنے کے حوالے سے دوسرا بدترین ملک ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان میں 21 کروڑ سے زائد افراد کے لیے سال 2014 کے آخر تک رجسٹرڈ ڈاکٹرز کی تعداد ایک لاکھ 75 ہزار 600 تھی۔ جرنل آف پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (جے پی ایم اے) کے مطابق پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم کے لیے طلبہ کے داخلہ لینے کی شرح تو زیادہ ہوتی ہے، لیکن ان طلبہ سے ڈاکٹرز بننے والے افراد کی تعداد اس سے کہیں کم ہوتی ہے۔
سائنس جرنل بی ایم جے میں شائع ایک مضمون کے مطابق مریضوں کے معائنے کے حوالے سے پاکستان دنیا کے 67 ممالک میں دوسرا بدترین ملک ہے۔ مریضوں کے معائنے کے حوالے سے دنیا کا سب سے بدتر ملک بنگلہ دیش ہے، جہاں ایک ڈاکٹر اوسطا ایک مریض کو محض 48 سیکنڈز تک ہی دیکھ پاتا ہے۔ ان 48 سیکنڈز میں ڈاکٹر نہ صرف مریض کی بیماری کا اندازہ لگاتا ہے، بلکہ اسے صحت مند ہونے کے لیے دوائیں تجویز کرنے سمیت اسے اب تک کی صورتحال سے بھی آگاہ کرتا ہے۔
رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ مریضوں کے معائنے کے حوالے سے دوسرا بدترین ملک پاکستان ہے، جہاں ایک ڈاکٹر اوسطا ایک مریض کو ایک منٹ 13 سیکنڈز تک دیکھ پاتا ہے۔ یعنی پاکستانی ڈاکٹرز بنگلہ دیشی ڈاکٹرز کے مقابلے اپنے مریضوں کو 63 سیکنڈ اضافی وقت دیتے ہیں۔ اسی طرح 67 ممالک میں مریضوں کے معائنے کے حوالے سے بھارت تیسرا بدترین ملک ہے، جہاں ایک ڈاکٹر اوسطا ایک مریض کو 2 منٹ تک دیکھتا ہے۔ یہ حیران کن بات ہے کہ جنوب ایشیائی تعاون تنظیم (سارک) کے تینوں ممبر ممالک مریضوں کے معائنے کے حوالے سے بدترین ممالک میں شمار ہوئے ہیں۔
اگرچہ تینوں ممالک نے سارک کے ذریعے خطے میں صحت کی سہولیات عام کرنے سے متعلق کمیٹی بھی بنا رکھی ہے، تاہم خطے کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ بی اے جے اوپن جرنل کی رپورٹ کے مطابق اس ڈیٹا کے لیے ماہرین نے 67 ممالک کے ڈاکٹروں کے ریکارڈ کا معائنہ کیا، یہ ریکارڈ 1953 سے 2016 تک کا تھا، اور سروے کے دوران 2 کروڑ 80 لاکھ دستاویزات کا جائزہ لیا گیا۔ سروے سے پتہ چلا کہ مریضوں کے معائنے کے لیے فرسٹ ورلڈ ممالک سرفہرست ہیں۔ سروے میں شامل 67 ممالک میں سب سے زیادہ سویڈن کے ڈاکٹر مریضوں کو زیادہ وقت دیتے ہیں، وہاں اوسطا ایک ڈاکٹر ایک مریض کو 22 منٹ تک دیکھتے ہیں۔ یورپی ملک ناروے میں بھی ڈاکٹرز مریضوں کو 20 منٹ سے زائد وقت تک دیکھتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ امریکا بھی یورپی ممالک سے پیچھے ہے، وہاں کے ڈاکٹرز اوسطا ایک مریض کو 20 منٹ تک دیکھتے ہیں، جب کہ برطانیہ کی حالت تو امریکا سے بھی بدتر ہے، جہاں ایک مریض کو ڈاکٹر اوسطا 10 منٹ سے کچھ زیادہ وقت دے پاتا ہے۔ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ امریکا اور برطانیہ میں ہر سال ڈاکٹرز کی جانب سے مریضوں کو زیادہ وقت دینے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکا میں ڈاکٹرز کی جانب سے معائنے کے وقت میں اوسطا سالانہ 12 سیکنڈز اور برطانیہ میں 4 سیکنڈز کا اضافہ ہو رہا ہے۔

Anya is live and ready to show you everything. Watch her strip, dance, and perform exclusive shows just for you. Interact in real-time and make your fantasies come true.
Free to watch • No registration required • HD streaming
طبی معائنے کے حوالے سے پاکستان دوسرا بد ترین ملک
پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں نہ صرف صحت کی سہولیات کا فقدان ہے، بلکہ وہ مریضوں کے معائنے کے حوالے سے بھی بدترین پوزیشن پر موجود ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں کہ پاکستان میں ڈاکٹرز کی سخت قلت ہے، تاہم ایک حالیہ عالمی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ پاکستان مریضوں کے طبی معائنے کے حوالے سے دوسرا بدترین ملک ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان میں 21 کروڑ سے زائد افراد کے لیے سال 2014 کے آخر تک رجسٹرڈ ڈاکٹرز کی تعداد ایک لاکھ 75 ہزار 600 تھی۔ جرنل آف پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (جے پی ایم اے) کے مطابق پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم کے لیے طلبہ کے داخلہ لینے کی شرح تو زیادہ ہوتی ہے، لیکن ان طلبہ سے ڈاکٹرز بننے والے افراد کی تعداد اس سے کہیں کم ہوتی ہے۔
سائنس جرنل بی ایم جے میں شائع ایک مضمون کے مطابق مریضوں کے معائنے کے حوالے سے پاکستان دنیا کے 67 ممالک میں دوسرا بدترین ملک ہے۔ مریضوں کے معائنے کے حوالے سے دنیا کا سب سے بدتر ملک بنگلہ دیش ہے، جہاں ایک ڈاکٹر اوسطا ایک مریض کو محض 48 سیکنڈز تک ہی دیکھ پاتا ہے۔ ان 48 سیکنڈز میں ڈاکٹر نہ صرف مریض کی بیماری کا اندازہ لگاتا ہے، بلکہ اسے صحت مند ہونے کے لیے دوائیں تجویز کرنے سمیت اسے اب تک کی صورتحال سے بھی آگاہ کرتا ہے۔
رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ مریضوں کے معائنے کے حوالے سے دوسرا بدترین ملک پاکستان ہے، جہاں ایک ڈاکٹر اوسطا ایک مریض کو ایک منٹ 13 سیکنڈز تک دیکھ پاتا ہے۔ یعنی پاکستانی ڈاکٹرز بنگلہ دیشی ڈاکٹرز کے مقابلے اپنے مریضوں کو 63 سیکنڈ اضافی وقت دیتے ہیں۔ اسی طرح 67 ممالک میں مریضوں کے معائنے کے حوالے سے بھارت تیسرا بدترین ملک ہے، جہاں ایک ڈاکٹر اوسطا ایک مریض کو 2 منٹ تک دیکھتا ہے۔ یہ حیران کن بات ہے کہ جنوب ایشیائی تعاون تنظیم (سارک) کے تینوں ممبر ممالک مریضوں کے معائنے کے حوالے سے بدترین ممالک میں شمار ہوئے ہیں۔
اگرچہ تینوں ممالک نے سارک کے ذریعے خطے میں صحت کی سہولیات عام کرنے سے متعلق کمیٹی بھی بنا رکھی ہے، تاہم خطے کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ بی اے جے اوپن جرنل کی رپورٹ کے مطابق اس ڈیٹا کے لیے ماہرین نے 67 ممالک کے ڈاکٹروں کے ریکارڈ کا معائنہ کیا، یہ ریکارڈ 1953 سے 2016 تک کا تھا، اور سروے کے دوران 2 کروڑ 80 لاکھ دستاویزات کا جائزہ لیا گیا۔ سروے سے پتہ چلا کہ مریضوں کے معائنے کے لیے فرسٹ ورلڈ ممالک سرفہرست ہیں۔ سروے میں شامل 67 ممالک میں سب سے زیادہ سویڈن کے ڈاکٹر مریضوں کو زیادہ وقت دیتے ہیں، وہاں اوسطا ایک ڈاکٹر ایک مریض کو 22 منٹ تک دیکھتے ہیں۔ یورپی ملک ناروے میں بھی ڈاکٹرز مریضوں کو 20 منٹ سے زائد وقت تک دیکھتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ امریکا بھی یورپی ممالک سے پیچھے ہے، وہاں کے ڈاکٹرز اوسطا ایک مریض کو 20 منٹ تک دیکھتے ہیں، جب کہ برطانیہ کی حالت تو امریکا سے بھی بدتر ہے، جہاں ایک مریض کو ڈاکٹر اوسطا 10 منٹ سے کچھ زیادہ وقت دے پاتا ہے۔ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ امریکا اور برطانیہ میں ہر سال ڈاکٹرز کی جانب سے مریضوں کو زیادہ وقت دینے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکا میں ڈاکٹرز کی جانب سے معائنے کے وقت میں اوسطا سالانہ 12 سیکنڈز اور برطانیہ میں 4 سیکنڈز کا اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکی عدالت ۔ منفرد مقدمہ۔ منصفانہ فیصلہ....
ملاحظہ کیجئے۔ 21اپریل 2015ء ہے اور واشنگٹن کے نواحی علاقے الیگزینڈریا ورجینیا کی امریکی وفاقی عدالت کا کمرہ قربان، عامر اور الیاس چوہدری نامی پاکستانیوں سمیت گورے کالے امریکیوں ، عیسائی پادری اور یہودی ربی اورہر عقیدہ و نسل کے لوگوں سے بھرا ہوا ہے بلکہ لوگ باہر بھی کھڑے ہیں۔ یہ ایک پاکستانی نژاد ڈاکٹر کے خلاف امریکی حکومت کا دائر کردہ مقدمہ ہے۔ الزامات بڑے سنگین ہیں، جن میں امریکہ کے خلاف سازش، ٹیکس فراڈ حکومت کو کئی ملین ڈالرز کا نقصان پہنچانے اور اسلام آباد کے مشہورکے اسٹاک کی غیرقانونی خریداری شامل ہے۔
مگر یہاں تو عدالت کا منظر ہی الٹا ہے۔ یہ سب لوگ اس پاکستانی نژاد ڈاکٹر سعید باوجوہ کی حمایت میں دور دراز کا سفر کرکے مختلف ریاستوں سے کمرئہ عدالت تک آئے ہیں۔ اس کے علاوہ 150 افراد ،جن میں ڈاکٹر سعید باجوہ کے بہت سے مریض ، ساتھی ڈاکٹرز، اسپتال کا عملہ، یہودی اور عیسائی مذاہب کے رہنما شامل ہیں جنہوں نے فرداً فرداً عدالت کے جج لیام اوگرڈی کے نام نیوروسرجن سعید باجوہ کے بارے میں اپنے ذاتی تجربات ، مشاہدات ، دیانت و شرافت اور سرجری کی مہارت کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر باجوہ کی انسان دوستی خدمت اور زندگی بچانے کی انتھک جدوجہد کے بارے میں خطوط لکھے ہیں کہ جب وہ سرجری کی فیس برداشت نہیں کرسکتے تھے اور انشورنس کمپنی بھی ادا کرنے سے انکاری تھی تو سعید باجوہ نے کس طرح اپنی سرجری کی فیس لئے بغیر نہ صرف سرجری کی بلکہ اس کے بعد بھی بحالی تک علاج کیا۔
امریکی خاتون کمبری کوہ نے جج کے نام لکھا کہ میں برین ٹیومر کے ہاتھوں زندگی کی امید ہار چکی تھی،مگر ڈاکٹر سعید باجوہ سے ملی تو سرجری سے قبل انہوں نے کہا کہ میں سرجری کرنے والی ٹیم کا انچارج اور اس جہاز کا کپتان ہوں۔ میں اسے ڈوبنے نہیں دوں گا۔ بس دعائوں کی ضرورت ہے۔ آج میں زندہ ہو اور یہ خط لکھ رہی ہوں۔ سوزن میگاھن نے لکھا کہ سرجن باجوہ نے فیس کی پرواہ کئے بغیر سرجری کی اور اسپتال کے اخراجات میں بھی کمی کروائی ۔ لاہور کے ایک معمولی بزنس مین چوہدری ریاض الدین اپنے برین ٹیومر کے سلسلے میں ڈاکٹر باجوہ سے پاکستان میں ملے اور پھر سرجری کیلئے امریکہ آئے تو انہیں سعید باجوہ نے ایک فرنشڈ اپارٹمنٹ میں قیام کروایا۔ سرجری اور علاج کے ڈیڑھ ماہ بعد جب وہ بل کی ادائیگی کیلئے اسپتال گئے تو معلوم ہوا کہ صرف اسپتال کا بل ہے اور سعید باجوہ نے سرجری کرنے کا بل ہی نہیں بھیجا۔
چوہدری ریا ض الدین نے جج کے نام لکھا ہے کہ جب میں نے ڈاکٹر باجوہ کو فیس دینے پر اصرار کیا تو انہوں نے کہا کہ میری فیس کی رقم آپ ضرورت مند انسانوں میں تقسیم و خیرات کردیں۔ ڈاکٹر لوئس پیکورا عیسائی پادری کوری وان کورن، مریضہ للیان پربا، ڈاکٹر مائیکل وولف، یہودی ربی، اسپتال کے سربراہ میتھیوسلنگر اور مختلف نسل اور عقیدہ کے لوگوں نے ڈاکٹر سعید باجوہ کی حمایت میں جو کچھ لکھا ہے صرف اسی کو پڑھنے سے مجھ سمیت ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہوگیا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ امریکی وفاقی عدالت کے جج لیام اوگرڈی نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے 17 صفحات پر مشتمل رولنگ میں ’’ملزم‘‘ ڈاکٹرسعید باجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں خدا کا شکر گزار ہوں کہ اس نے آپ جیسے انسان دنیا میں پیدا کئے۔ آپ ایک نعمت (TREASUR) ہیں‘‘۔ جج ملزموں کو باعزت بری تو کرتے ہیں لیکن کسی ملزم کو وہ نعمت کہہ کر خدا کا شکر ادا نہیں کرتے۔
میرا مشاہدہ تو یہی ہے۔ پھر یہ بھی یاد رکھیں کہ سانحہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر 11ستمبر 2001ء کے بعد امریکہ میں جو تبدیلی آئی ہے اور مسلمانوں کیلئے شکوک و شبہات ، مشکلات اور مقدمات و تحقیقات کی جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ سب کو معلوم ہے۔ لیکن رحیم یار خاں کے ایک دیہاتی متوسط مگر روشن دماغ اور سوچ رکھنے والے خاندان کا سعید باجوہ نشتر میڈیکل کالج سے ڈاکٹر بن کر نکلا تو والد کا اصرار تھا کہ پاکستان کے ضرورت مند انسانوں کی خدمت کرویہ مٹی کا قرض ہے۔ بڑی مشکل اور اصرار کے بعد دانشور والد نے اس شرط کے ساتھ امریکہ آنے کی اجازت دی کہ پاکستان اور پاکستانیوں کی خدمت فرائض میں شامل رکھنا۔ دولت کے پیچھے بھاگنے کی بجائے انسانوں کے پیچھے جاکر ان کی خدمت کرنا دولت تمہارے پیچھے آئے تو اس میں سے ضرورت مندوں کا حق پہلے علیحدہ کرکے پہنچانا۔
ڈاکٹروں باجوہ کی والدہ کو سر کا ’’مائیگرین درد تھا لہٰذا کثر سر کو دیہاتی انداز کی پٹی باندھ کر کہا کرتیں کہ میرا بیٹا ڈاکٹر بن کر اس درد کا علاج ڈھونڈے گا۔ غالباً یہی بات ڈاکٹر سعید باجوہ کے نیوروسرجن بننے کا محرک ثابت ہوئیس۔ نیویارک میں ریزیڈنسی کے سال مختلف اسپتالوں میں گزار کر سعید باجوہ نیوروسرجری کے شعبے میں مصروف اور پھر 1995ء میں اسپتال کے شعبہ نیوروسرجری کے ڈائریکٹر ہوگئے۔ مریضوں اور دولت کی ریل پیل ہوئی تو والد سے کئے گئے وعدوں کے مطابق رحیم یار خاں میں تعلیم کے فروغ اور مستحقین کی امداد کیلئے فلاحی کام کیلئے عطیات اور کام کی ابتداء کی والد صاحب تو 1987ء میں بھی تعمیر ملت فائونڈیشن کے شریک بانی ہو کر رحیم یار خاں میں تعمیر ملت اسکول کا آغاز کرچکے تھے۔ اب اس فائونڈیشن کے 430 اسکول پاکستان میں قائم ہیں۔
پھر جب اسلام آباد میں عالمی شہرت کا حامل اسپتال شفا انٹرنیشنل کی بنیاد ڈالی گئی تو ڈاکٹر باجوہ اس کے بھی بانی انویسٹر تھے۔ آزاد کشمیر میں تاریخی زلزلہ آیا تو سعید باجوہ نے اسلام آباد پہنچ کر مسلسل کئی روز تک متاثرین زلزلہ کی نیوروسرجری اور علاج کیا۔کی امریکہ میں بھی بلا لحاظ نسل، عقیدہ یا رنگ ڈاکٹر باجوہ نے عطیات بھی دیئے اور ضرورت مند انسانوں کی بے لوث خدمت کرکے اپنے علاقے میں بھی بڑی شہرت اور احترام حاصل کیا۔
ستمبر سانحہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے بعدامریکہ کے مسلمانوں کیلئے امریکہ تبدیل اور مشکلات کا دور شروع ہوا۔ تحقیقات ، نگرانی دیگر مسائل اور دہشت گردی کے طوفان نے جو ماحول پیدا کیا اسی میں کچھ عرصہ بعد کشمیر کاز کیلئے سرگرم ڈاکٹر غلام نبی فائی اور ان کی کشمیر۔ امریکن کونسل ایف بی آئی کی تحقیقات کی زد میں آگئی جس میں ایک پاکستانی ادارے کی فنڈنگ اور شفا انٹرنیشنل اسپتال کے بانی ظہیر احمد کے نام اور حوالے سامنے آئے۔ اور پھر جولائی 2011ء میں ڈاکٹر سعید باجوہ بھی ایف بی آئی کی تحقیقات کی زد میں آگئے الزامات لگا کر مقدمہ قائم کیا گیا کہ ایک مسلسل سازش کے ذریعہ امریکہ اور اس کے ٹیکس نظام کے ساتھ فراڈ کیا گیا۔ غلط بیانی کی گئی اور امریکہ کو کئی ملین ڈالرز کا نقصان پہنچایا گیا۔ شفا انٹرنیشنل شیئرز غیرقانونی طور پر باجوہ صاحب نے حاصل کئے۔ امریکی محکمہ انکم ٹیکس کے مطابق ڈاکٹر سعید باجوہ نے 2002 ء تا 2010ء کے آٹھ سال عرصہ میں 13,90,272 یعنی تقریباً چودہ لاکھ ڈالرز کے عطیات دیئے۔
ان میں سے انہوں نے ساڑھے پندرہ ہزار ڈالرز رحیم یار خان میں اپنے چچا محمد امین باجوہ کے زیر انتظام ’’اقرا کالج برائے خواتین کو دیئے اور قانون کے مطابق یہ نہیں بتایا کہ یہ ادارہ ان کے رشتہ دار کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔ لہٰذا یہ دھوکہ اور غلط بیانی ہے جبکہ ایف بی آئی کی تحقیقات کے دوران سعید باجوہ نے سوال کے جواب میں بتایا تھا کہ انہوں نے شفاء انٹرنیشنل اسپتال کے بورڈ کی میٹنگ میں 2010ء میں شرکت کی تھی جبکہ وہ اسپتال کے بانی انویسٹر اور 2006ء سے وابستہ ہیں لہٰذا یہ بھی غلط بیانی ہے۔
بہرحال سنگین الزامات کے تحت ڈاکٹر باجوہ اس مقدمے اور تحقیقات کے شدید دبائو میں رہے مگر بڑی جرات اور صاف ضمیر کے ساتھ حالات کا سامنا کرتے رہے۔ ان کے وکیلوں نے عدالت میں انکم ٹیکس کے محکمہ کے حکام کے ساتھ بیٹھ کر ایک ایک رسید اور دستاویزات سے ثابت کیا کہ شفاء انٹرنیشنل کے ہر ہر شیئر کو جائز طور پررقم ادا کرکے قانون کے مطابق خریدا گیا ہے۔ اسی طرح تمام عطیات کا حساب بھی ثابت کیا گیا۔ اور پھر خود امریکی حکومت کی جانب سے لگائے گئے الزامات واپس لئے جانے لگے۔ عدالت نے بھی بعض امور پر امریکی حکومت کے موقف کو دلائل اور شواہد کی بناء پر مسترد کر دیا لہٰذا نیا سال شروع ہونے پر مقدمہ کے تمام الزامات سکڑ کر صرف چند الزامات زیر بحث رہ گئے کہ ’’اقراء‘‘ کالج برائے خواتین کو عطیات تو درست دیئے مگر بے ضابطگی یہ ہوئی کہ انکم ٹیکس حکام کو یہ نہیں بتایا کہ یہ ادارہ ان کے رشتہ دار چلاتے ہیں۔
دوسرے یہ کہ شفاء انٹرنیشنل سے اپنی وابستگی 2006ء سے بتانے کی بجائے 2010ء بتائی گئی اور اس طرح غلط بیانی اور ٹیکس کے نظام کو نقصان پہچانے کا ارتکاب کیا گیا۔ ڈاکٹر باجوہ نے اپنی ان دونوں غلطیوں کا اعتراف بھی کرلیا اور جج نے بھی کہا کہ غلطی تو ہوئی مگر باجوہ کی نیت خراب نہیں تھی۔ سعید باجوہ بھی ہماری طرح انسان ہیں۔ عدالت کے جج نے اپنے سترہ صفحات پر مشتمل فیصلے میں ریمارکس دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ڈاکٹر سعید باجوہ ہمارے لئے ایک نعمت (TREASUR) ہیں۔ انہیں کمیونٹی سے دور کرنا کمیونٹی کیلئے نقصان ہوگا وہ ایک سرجن کے طور پر انسانوں کی خدمت کررہے ہیں لہٰذا ان کی دو غلطیوں کیلئے انہیں دوسال کی ’’پروبیشن‘‘ اور 25 ہزار ڈالرز جرمانہ ادا کرنا ہوں گے۔
ایک اچھے پاکستانی، امریکن رول ماڈل کے طور پر پاکستانیوں کا سرفخر سے ڈاکٹر سعید باجوہ نے بلند کیا جبکہ امریکی نظام انصاف نے بھی قانون کی بالا دستی کے ساتھ ساتھ سعید باجوہ کی انسانی غلطیوں کو بھی ان کی اعلیٰ انسانی اقدار اور خدمت انسانیت کے تناظر میں جانچ کر انصاف کیا۔
ڈاکٹر فرقان حمید
"بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ
امریکی عدالت ۔ منفرد مقدمہ۔ منصفانہ فیصلہ....
ملاحظہ کیجئے۔ 21اپریل 2015ء ہے اور واشنگٹن کے نواحی علاقے الیگزینڈریا ورجینیا کی امریکی وفاقی عدالت کا کمرہ قربان، عامر اور الیاس چوہدری نامی پاکستانیوں سمیت گورے کالے امریکیوں ، عیسائی پادری اور یہودی ربی اورہر عقیدہ و نسل کے لوگوں سے بھرا ہوا ہے بلکہ لوگ باہر بھی کھڑے ہیں۔ یہ ایک پاکستانی نژاد ڈاکٹر کے خلاف امریکی حکومت کا دائر کردہ مقدمہ ہے۔ الزامات بڑے سنگین ہیں، جن میں امریکہ کے خلاف سازش، ٹیکس فراڈ حکومت کو کئی ملین ڈالرز کا نقصان پہنچانے اور اسلام آباد کے مشہورکے اسٹاک کی غیرقانونی خریداری شامل ہے۔
مگر یہاں تو عدالت کا منظر ہی الٹا ہے۔ یہ سب لوگ اس پاکستانی نژاد ڈاکٹر سعید باوجوہ کی حمایت میں دور دراز کا سفر کرکے مختلف ریاستوں سے کمرئہ عدالت تک آئے ہیں۔ اس کے علاوہ 150 افراد ،جن میں ڈاکٹر سعید باجوہ کے بہت سے مریض ، ساتھی ڈاکٹرز، اسپتال کا عملہ، یہودی اور عیسائی مذاہب کے رہنما شامل ہیں جنہوں نے فرداً فرداً عدالت کے جج لیام اوگرڈی کے نام نیوروسرجن سعید باجوہ کے بارے میں اپنے ذاتی تجربات ، مشاہدات ، دیانت و شرافت اور سرجری کی مہارت کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر باجوہ کی انسان دوستی خدمت اور زندگی بچانے کی انتھک جدوجہد کے بارے میں خطوط لکھے ہیں کہ جب وہ سرجری کی فیس برداشت نہیں کرسکتے تھے اور انشورنس کمپنی بھی ادا کرنے سے انکاری تھی تو سعید باجوہ نے کس طرح اپنی سرجری کی فیس لئے بغیر نہ صرف سرجری کی بلکہ اس کے بعد بھی بحالی تک علاج کیا۔
امریکی خاتون کمبری کوہ نے جج کے نام لکھا کہ میں برین ٹیومر کے ہاتھوں زندگی کی امید ہار چکی تھی،مگر ڈاکٹر سعید باجوہ سے ملی تو سرجری سے قبل انہوں نے کہا کہ میں سرجری کرنے والی ٹیم کا انچارج اور اس جہاز کا کپتان ہوں۔ میں اسے ڈوبنے نہیں دوں گا۔ بس دعائوں کی ضرورت ہے۔ آج میں زندہ ہو اور یہ خط لکھ رہی ہوں۔ سوزن میگاھن نے لکھا کہ سرجن باجوہ نے فیس کی پرواہ کئے بغیر سرجری کی اور اسپتال کے اخراجات میں بھی کمی کروائی ۔ لاہور کے ایک معمولی بزنس مین چوہدری ریاض الدین اپنے برین ٹیومر کے سلسلے میں ڈاکٹر باجوہ سے پاکستان میں ملے اور پھر سرجری کیلئے امریکہ آئے تو انہیں سعید باجوہ نے ایک فرنشڈ اپارٹمنٹ میں قیام کروایا۔ سرجری اور علاج کے ڈیڑھ ماہ بعد جب وہ بل کی ادائیگی کیلئے اسپتال گئے تو معلوم ہوا کہ صرف اسپتال کا بل ہے اور سعید باجوہ نے سرجری کرنے کا بل ہی نہیں بھیجا۔
چوہدری ریا ض الدین نے جج کے نام لکھا ہے کہ جب میں نے ڈاکٹر باجوہ کو فیس دینے پر اصرار کیا تو انہوں نے کہا کہ میری فیس کی رقم آپ ضرورت مند انسانوں میں تقسیم و خیرات کردیں۔ ڈاکٹر لوئس پیکورا عیسائی پادری کوری وان کورن، مریضہ للیان پربا، ڈاکٹر مائیکل وولف، یہودی ربی، اسپتال کے سربراہ میتھیوسلنگر اور مختلف نسل اور عقیدہ کے لوگوں نے ڈاکٹر سعید باجوہ کی حمایت میں جو کچھ لکھا ہے صرف اسی کو پڑھنے سے مجھ سمیت ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہوگیا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ امریکی وفاقی عدالت کے جج لیام اوگرڈی نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے 17 صفحات پر مشتمل رولنگ میں ’’ملزم‘‘ ڈاکٹرسعید باجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں خدا کا شکر گزار ہوں کہ اس نے آپ جیسے انسان دنیا میں پیدا کئے۔ آپ ایک نعمت (TREASUR) ہیں‘‘۔ جج ملزموں کو باعزت بری تو کرتے ہیں لیکن کسی ملزم کو وہ نعمت کہہ کر خدا کا شکر ادا نہیں کرتے۔
میرا مشاہدہ تو یہی ہے۔ پھر یہ بھی یاد رکھیں کہ سانحہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر 11ستمبر 2001ء کے بعد امریکہ میں جو تبدیلی آئی ہے اور مسلمانوں کیلئے شکوک و شبہات ، مشکلات اور مقدمات و تحقیقات کی جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ سب کو معلوم ہے۔ لیکن رحیم یار خاں کے ایک دیہاتی متوسط مگر روشن دماغ اور سوچ رکھنے والے خاندان کا سعید باجوہ نشتر میڈیکل کالج سے ڈاکٹر بن کر نکلا تو والد کا اصرار تھا کہ پاکستان کے ضرورت مند انسانوں کی خدمت کرویہ مٹی کا قرض ہے۔ بڑی مشکل اور اصرار کے بعد دانشور والد نے اس شرط کے ساتھ امریکہ آنے کی اجازت دی کہ پاکستان اور پاکستانیوں کی خدمت فرائض میں شامل رکھنا۔ دولت کے پیچھے بھاگنے کی بجائے انسانوں کے پیچھے جاکر ان کی خدمت کرنا دولت تمہارے پیچھے آئے تو اس میں سے ضرورت مندوں کا حق پہلے علیحدہ کرکے پہنچانا۔
ڈاکٹروں باجوہ کی والدہ کو سر کا ’’مائیگرین درد تھا لہٰذا کثر سر کو دیہاتی انداز کی پٹی باندھ کر کہا کرتیں کہ میرا بیٹا ڈاکٹر بن کر اس درد کا علاج ڈھونڈے گا۔ غالباً یہی بات ڈاکٹر سعید باجوہ کے نیوروسرجن بننے کا محرک ثابت ہوئیس۔ نیویارک میں ریزیڈنسی کے سال مختلف اسپتالوں میں گزار کر سعید باجوہ نیوروسرجری کے شعبے میں مصروف اور پھر 1995ء میں اسپتال کے شعبہ نیوروسرجری کے ڈائریکٹر ہوگئے۔ مریضوں اور دولت کی ریل پیل ہوئی تو والد سے کئے گئے وعدوں کے مطابق رحیم یار خاں میں تعلیم کے فروغ اور مستحقین کی امداد کیلئے فلاحی کام کیلئے عطیات اور کام کی ابتداء کی والد صاحب تو 1987ء میں بھی تعمیر ملت فائونڈیشن کے شریک بانی ہو کر رحیم یار خاں میں تعمیر ملت اسکول کا آغاز کرچکے تھے۔ اب اس فائونڈیشن کے 430 اسکول پاکستان میں قائم ہیں۔
پھر جب اسلام آباد میں عالمی شہرت کا حامل اسپتال شفا انٹرنیشنل کی بنیاد ڈالی گئی تو ڈاکٹر باجوہ اس کے بھی بانی انویسٹر تھے۔ آزاد کشمیر میں تاریخی زلزلہ آیا تو سعید باجوہ نے اسلام آباد پہنچ کر مسلسل کئی روز تک متاثرین زلزلہ کی نیوروسرجری اور علاج کیا۔کی امریکہ میں بھی بلا لحاظ نسل، عقیدہ یا رنگ ڈاکٹر باجوہ نے عطیات بھی دیئے اور ضرورت مند انسانوں کی بے لوث خدمت کرکے اپنے علاقے میں بھی بڑی شہرت اور احترام حاصل کیا۔
ستمبر سانحہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے بعدامریکہ کے مسلمانوں کیلئے امریکہ تبدیل اور مشکلات کا دور شروع ہوا۔ تحقیقات ، نگرانی دیگر مسائل اور دہشت گردی کے طوفان نے جو ماحول پیدا کیا اسی میں کچھ عرصہ بعد کشمیر کاز کیلئے سرگرم ڈاکٹر غلام نبی فائی اور ان کی کشمیر۔ امریکن کونسل ایف بی آئی کی تحقیقات کی زد میں آگئی جس میں ایک پاکستانی ادارے کی فنڈنگ اور شفا انٹرنیشنل اسپتال کے بانی ظہیر احمد کے نام اور حوالے سامنے آئے۔ اور پھر جولائی 2011ء میں ڈاکٹر سعید باجوہ بھی ایف بی آئی کی تحقیقات کی زد میں آگئے الزامات لگا کر مقدمہ قائم کیا گیا کہ ایک مسلسل سازش کے ذریعہ امریکہ اور اس کے ٹیکس نظام کے ساتھ فراڈ کیا گیا۔ غلط بیانی کی گئی اور امریکہ کو کئی ملین ڈالرز کا نقصان پہنچایا گیا۔ شفا انٹرنیشنل شیئرز غیرقانونی طور پر باجوہ صاحب نے حاصل کئے۔ امریکی محکمہ انکم ٹیکس کے مطابق ڈاکٹر سعید باجوہ نے 2002 ء تا 2010ء کے آٹھ سال عرصہ میں 13,90,272 یعنی تقریباً چودہ لاکھ ڈالرز کے عطیات دیئے۔
ان میں سے انہوں نے ساڑھے پندرہ ہزار ڈالرز رحیم یار خان میں اپنے چچا محمد امین باجوہ کے زیر انتظام ’’اقرا کالج برائے خواتین کو دیئے اور قانون کے مطابق یہ نہیں بتایا کہ یہ ادارہ ان کے رشتہ دار کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔ لہٰذا یہ دھوکہ اور غلط بیانی ہے جبکہ ایف بی آئی کی تحقیقات کے دوران سعید باجوہ نے سوال کے جواب میں بتایا تھا کہ انہوں نے شفاء انٹرنیشنل اسپتال کے بورڈ کی میٹنگ میں 2010ء میں شرکت کی تھی جبکہ وہ اسپتال کے بانی انویسٹر اور 2006ء سے وابستہ ہیں لہٰذا یہ بھی غلط بیانی ہے۔
بہرحال سنگین الزامات کے تحت ڈاکٹر باجوہ اس مقدمے اور تحقیقات کے شدید دبائو میں رہے مگر بڑی جرات اور صاف ضمیر کے ساتھ حالات کا سامنا کرتے رہے۔ ان کے وکیلوں نے عدالت میں انکم ٹیکس کے محکمہ کے حکام کے ساتھ بیٹھ کر ایک ایک رسید اور دستاویزات سے ثابت کیا کہ شفاء انٹرنیشنل کے ہر ہر شیئر کو جائز طور پررقم ادا کرکے قانون کے مطابق خریدا گیا ہے۔ اسی طرح تمام عطیات کا حساب بھی ثابت کیا گیا۔ اور پھر خود امریکی حکومت کی جانب سے لگائے گئے الزامات واپس لئے جانے لگے۔ عدالت نے بھی بعض امور پر امریکی حکومت کے موقف کو دلائل اور شواہد کی بناء پر مسترد کر دیا لہٰذا نیا سال شروع ہونے پر مقدمہ کے تمام الزامات سکڑ کر صرف چند الزامات زیر بحث رہ گئے کہ ’’اقراء‘‘ کالج برائے خواتین کو عطیات تو درست دیئے مگر بے ضابطگی یہ ہوئی کہ انکم ٹیکس حکام کو یہ نہیں بتایا کہ یہ ادارہ ان کے رشتہ دار چلاتے ہیں۔
دوسرے یہ کہ شفاء انٹرنیشنل سے اپنی وابستگی 2006ء سے بتانے کی بجائے 2010ء بتائی گئی اور اس طرح غلط بیانی اور ٹیکس کے نظام کو نقصان پہچانے کا ارتکاب کیا گیا۔ ڈاکٹر باجوہ نے اپنی ان دونوں غلطیوں کا اعتراف بھی کرلیا اور جج نے بھی کہا کہ غلطی تو ہوئی مگر باجوہ کی نیت خراب نہیں تھی۔ سعید باجوہ بھی ہماری طرح انسان ہیں۔ عدالت کے جج نے اپنے سترہ صفحات پر مشتمل فیصلے میں ریمارکس دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ڈاکٹر سعید باجوہ ہمارے لئے ایک نعمت (TREASUR) ہیں۔ انہیں کمیونٹی سے دور کرنا کمیونٹی کیلئے نقصان ہوگا وہ ایک سرجن کے طور پر انسانوں کی خدمت کررہے ہیں لہٰذا ان کی دو غلطیوں کیلئے انہیں دوسال کی ’’پروبیشن‘‘ اور 25 ہزار ڈالرز جرمانہ ادا کرنا ہوں گے۔
ایک اچھے پاکستانی، امریکن رول ماڈل کے طور پر پاکستانیوں کا سرفخر سے ڈاکٹر سعید باجوہ نے بلند کیا جبکہ امریکی نظام انصاف نے بھی قانون کی بالا دستی کے ساتھ ساتھ سعید باجوہ کی انسانی غلطیوں کو بھی ان کی اعلیٰ انسانی اقدار اور خدمت انسانیت کے تناظر میں جانچ کر انصاف کیا۔
ڈاکٹر فرقان حمید
"بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ