"ضابط سمیدو" آذربائیجان کے کِک باکسر ہے جنہوں نے حال ہی میں کرولوس عثمان نامی ترک تاریخی ڈرامے میں "غنجے بے" کی حیثیت سے اداکاری کے میدان میں قدم رکّھا، وہ کک باکسنگ کے ۱۱۱ مقابلوں میں ۱۰۱ مرتبہ فتحیاب ہوے، نو مرتبہ شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ایک مقابلہ برابری پر ختم ہوا، بوڑھا قائی سردار بامسی' نووارد غنجے بے سے سوال کرتا ہے "اے بہادر' تم کہاں سے تشریف لائے ہو؟ تو جواب ہوتا ہے "کاراباغ" پھر بامسی کہتا ہے "سلامتی ہو کاراباغ کے باشندوں پر" ان دنوں ترکی اور آذربائیجان کی دوستی عروج پر ہے، حال ہی میں دونوں ممالک کی متحدہ فوجی کاروائیوں نے آرمینیاء کا غرور خاک میں ملادیا، ۲۸ سال بعد کاراباغ میں فتح کا پرچم لہرایا، تاریخی مسجد کی بازیابی ہوی، گزشتہ دنوں یہ خبر ملی تھی کہ انقرہ اور باکو اس معاہدے پر رضامند ہوگئے ہیں کہ ترکی اور آزربائیجان کے باشندے بغیر ویزے کے دونوں ممالک کا سفر کرسکتے ہیں اب یہ خبر مل رہی ہے کہ پاسپورٹ کی بندش بھی ختم ہوجائے گی اور فقط شناختی کارڈ ہی سفر کے لیے کافی ہوگا، اسلامی ممالک کی یہ قربت خوش آئند ہے اللہ کرے کہ یہ دائرہ دو ملکوں سے بڑھ کر کئی ممالک کی شرکت سے وسیع تر ہوجائے، نسلی، لسانی اور سرحدی تعصّب کا رنگ اسلامی قومیت اور اخوّت کے رنگ کے سامنے پھیکا پڑجائے۔ نوٹ: - مردِ قلندر اقبال کے الفاظ میں؛ "ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر" #erturul #turkeydramas https://www.instagram.com/p/CJSzoZDrQbB/?igshid=1tiwgymguudis









