جج ارشد ملک کی کہانی کا کیا انجام ہوگا؟
حامد میر اُس دن شدید حبس تھا، میں بارش کی دعا مانگ رہا تھا، اچانک ٹیلی وژن کی اسکرین پر ایک بریکنگ نیوز نمودار ہوئی اور میرے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ لاہور ہائیکورٹ کی ایک انتظامی کمیٹی نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو سات سال قید سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو نوکری سے برخاست کر دیا تھا۔ گزشتہ سال نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے ایک پریس کانفرنس میں جج ارشد ملک کی خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی ایک وڈیو جاری کی تھی جس میں ارشد ملک یہ اعتراف کر رہا تھا کہ اس نے العزیزیہ اسٹیل مل کیس میں نواز شریف کے ساتھ ناانصافی کی کیونکہ اس پر دباؤ تھا۔ جب انکوائری شروع ہوئی تو جج نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ (ن) نے اسے ایک قابلِ اعتراض وڈیو کے ذریعہ بلیک میل کیا۔ موصوف نے یہ اعتراف بھی کر لیا کہ انہوں نے نواز شریف کے ساتھ جاتی امرا اور ان کے صاحبزادے حسین نواز کےساتھ سعودی عرب میں ملاقات کی تھی۔ جج ارشد ملک کو معطل کر دیا گیا اور ایک سال تک ان کا معاملہ لٹکتا رہا۔ ایک سال کے بعد انہیں نوکری سے برخاست کر دیا گیا اور اب مسلم لیگ (ن) کی قیادت ارشد ملک کی برطرفی کو اپنی بہت بڑی فتح قرار دے رہی ہے۔ اب میرا دل چاہا کہ قہقہے لگائوں کیونکہ میں جب بھی جج ارشد ملک کے جوڈیشل مس کنڈکٹ کی مذمت سنتا ہوں تو مجھے ایک اور ملک صاحب یاد آجاتے ہیں۔ یہ تھے جسٹس ملک محمد قیوم جو 1998میں لاہور ہائیکورٹ کے احتساب بینچ کے جج ہوا کرتے تھے اور پرویز مشرف کے دور میں اٹارنی جنرل بنائے گئے۔ ملک قیوم نے سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی لیکن سزا سنانے کے کچھ عرصہ کے بعد پیپلز پارٹی نے ان کی آڈیو ٹیپس جاری کیں جن میں ان کی اس وقت کے وزیر قانون خالد انور، Read the full article










