Hai isi mein pyaar ki aaboo - Anpadh,1962, Lata Mangeshkar
ہے اسی میں پیار کی آبرو وہ جفا کریں میں وفا کروں جو وفا بھی کام نہ آ سکے تو وہی کہیں کہ میں کیا کروں؟ مجھے غم بھی ان کا عزیز ہے کہ انہی کی دی ہوئی چیز ہے یہی غم ہے اب میری زندگی اسے کیسے خود سے جدا کروں؟ جو نہ بن سکے میں وہ بات ہوں جو نہ ختم ہو میں وہ رات ہوں یہ لکھا ہے میرے نصیب میں یونہی شمع بن کے جلا کروں نہ کسی کے دل کی ہوں آرزو نہ کسی نظر کی ہوں جستجو میں وہ پھول ہوں جو اداس ہوں نہ بہار آے تو کیا کروں؟
کلام : راجہ مہدی علی خان آواز : لتا منگیشکر










