“Aakhri CD”🎵💿
Shuruat:
2006 ka zamana, ek chhota ladka (11 saal ka) har hafte apni pocket money se CD shop se game ya song CD kharidta. Shop ka malik usko hamesha “Beta, yeh naya aaya hai” keh ke suggest karta. Ladka excited hota, ghar jaake chalata.
Beech ka daur:
Sal guzarne lagte hain… ladka bada hota hai, ab college jata hai. CD shop mein pehle jaise rush nahi, USB aur memory cards ne CDs ki jagah le li. Malik ka chehra udas rehta hai, lekin wo fir bhi ladke ko dekh ke muskurata hai.
Aakhri scene (twist):
Ek din ladka (ab 25 saal ka) purani gali se guzarta hai… CD shop ki jagah ek coffee shop ban chuki hoti hai.
Jate hue wo dekhta hai ek chhoti table ke neeche ek purani dusty box pada hai.
Us box mein sirf ek CD bachi hoti hai — cover pe likha hota hai “Game for Ali – From Uncle Imran”.
Ladka shock ho jata hai… kyunki bachpan mein usne kabhi apna naam bataya hi nahi tha.
Samajh aata hai ki shop ka malik usko apne khud ke bete ki tarah samajh ke har saal ek special CD banata tha, jo kabhi bechi nahi, sirf uske liye rakhta tha.
Lekin ladka wapas kabhi aaya hi nahi…
Ending line:
Main sochta raha, CDs ka zamana khatam kab hua… pata hi nahi chala. Shayad, kuch rishte bhi waise hi khamoshi se khatam ho jaate hain.
__lafzon-ki-diary
آخری سی ڈی 💿
2006 کا زمانہ تھا۔ میں گیارہ سال کا ایک عام سا لڑکا تھا جس کی سب سے بڑی خوشی یہ ہوتی تھی کہ ہفتے کے آخر میں جیب خرچ بچا کر اپنی پسندیدہ گیم یا گانوں کی سی ڈی خریدوں۔ محلے کے کونے پر ایک چھوٹی سی سی ڈی کی دکان تھی۔ لکڑی کی شیلفوں پر رنگ برنگی کورز والی فلموں، گانوں اور گیمز کی سی ڈیز ترتیب سے لگی ہوتی تھیں۔ دکان کا مالک، انکل عمران، ہمیشہ ہنستے ہوئے میرا استقبال کرتا اور کہتا:
> "بیٹا، یہ نیا آیا ہے، تمہیں ضرور پسند آئے گا۔"
میں ہر بار نئی سی ڈی لے کر خوشی خوشی گھر آتا، اسے کمپیوٹر یا سی ڈی پلیئر میں چلاتا، اور گھنٹوں اس کی دنیا میں کھویا رہتا۔ یہ میرا چھوٹا سا خواب جیسا معمول تھا۔
سال گزرتے گئے… میں بڑا ہوتا گیا۔ اب اسکول ختم ہو چکا تھا، کالج شروع ہو گیا تھا۔ اس دوران دنیا بدل گئی۔ یو ایس بی ڈرائیوز، میموری کارڈز اور آن لائن ڈاؤن لوڈز نے سی ڈیز کی جگہ لینا شروع کر دی۔ دکان پر رش کم ہونے لگا۔ میں بھی مصروف ہو گیا، آنا کم کر دیا۔ جب کبھی آتا تو انکل عمران کے چہرے پر وہی مسکراہٹ ہوتی، مگر آنکھوں میں ہلکی سی اداسی بھی نظر آتی۔ شیلف پر پڑی سی ڈیز پر دھول جمنے لگی تھی۔
پھر ایک دن… کئی سال بعد، میں اسی گلی سے گزرا۔ جہاں کبھی سی ڈیز کی دکان تھی، وہاں اب ایک کافی شاپ کھلی ہوئی تھی۔ لمحہ بھر کو رکا… پرانی یادیں دل پر دستک دینے لگیں۔ میں اندر گیا تو کونے میں ایک پرانا سا ڈبہ رکھا نظر آیا۔ تجسس سے ڈبہ کھولا تو اندر صرف ایک سی ڈی پڑی تھی۔ اس پر ہاتھ سے لکھا ہوا تھا:
> "Game for Ali – From Uncle Imran"
میرے ہاتھ لرز گئے۔ میں نے کبھی انکل عمران کو اپنا نام نہیں بتایا تھا…
میں دیر تک اس سی ڈی کو گھورتا رہا۔ باہر کافی شاپ کے گاہک اپنی دنیا میں مصروف تھے، مگر میں وقت میں پیچھے جا چکا تھا۔ شاید کچھ رشتے بھی سی ڈیز کی طرح ہوتے ہیں — خاموشی سے ختم ہو جاتے ہیں، اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا کہ آخری ملاقات کب ہوئی تھی۔













