پڑھنا منع ہے! "معصومانہ سوال"
عمر شریف صاحب دیارِ وطن "جرمنی" کے ایک ہسپتال میں انتقال کرگئے کیونکہ جو فیصلہ لوکل ڈاکٹرز کے بورڈ کو کرنا چاہیے تھا۔ وہ چند اینکرز ، سوشل میڈیا کے دباؤ اور ڈاکٹر طارق شہاب نے کیا۔
ڈاکٹر طارق شہاب کا عمر شریف صاحب کو امریکہ منتقلی کا فیصلہ غلط تھا۔دل کا وال جس مائیکرو کمپلیکس پروسیجر سے بدلنا تھا مریض اس کے لیے ہرگز تیار نہ تھا اور جو مریض امریکہ شفٹ نہیں کیا جاسکتا تھا وہ کمپلیکس دل کی سرجری کے قابل کیسے ہوسکتا تھا؟ اُس پر اُن کی بیگم کو جرمنی میں ویزہ حصول کے لیے جیل میں الگ انتظار کرنا پڑا۔
سندھ گورنمنٹ نے کروڑوں روپے ائیر ایمبولینس میں جھونک دئیے۔عوام کے ٹیکس کا پیسہ مقامی بہترین ڈاکٹرزپر بد اعتمادی کی نظر ہوگیا جو کہ طبی سسٹم پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بھی ہے۔
بہرکیف "عمر شریف" غلط حکومتی و طبی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ ریٹنگز اور سوشل میڈیا پر لائیکس و کمنٹس کے خواہ خوابیدہ دنیا میں رہنے والے لوگوں کے بھینٹ چڑھ گئے ، مزاح کی دُنیا اور اپنے مداحوں کو تنہا چھوڑ گئے اور اس طرح ایک عہد تمام ہوا۔ یہ ناعاقبت اندیشی کسی سانحہ سے کم نہیں ۔ کیا وطن عزیز میں کوئی اس بدترین تاریخی سانحہ سے کچھ سیکھ پائےگا؟











