1965 کی جنگ میں آپریشن دوراکا کیا تھا؟اس میں کامیابی حاصل کرنا پاکستان بحریہ کیلئے کیوں ضروری تھا؟
قیام پاکستان کے بعد سے ہی اس ملک خداد کو بھارت جیسے جنونی دشمن سے نبرد آزما ہونا پڑا، ستمبر1965کی ایک تاریک رات میں بھارتی افواج نے پاکستان پر شب خون مارنے کی مذموم کوشش کی اور جنگ کا نیا محاذ کھول دیا۔ پاکستان کو نیست و نابود کرنے کے گھناﺅنے منصوبے کے تحت بھارت نے بری، فضائی اور بحری حملوں کے ذریعے پاکستان کو کاری نقصان پہنچانے کی کوشش کی تاہم بزدل بھارت کے جنگی جنون کو اس وقت پستی کا سامنا کرنا پڑا کہ جب افو اج پاکستان کے با حوصلہ، دلیر، نڈر اور جذبہ شہادت سے سرشار سپاہیوں نے بھارتیوں کے دانت کھٹے کر دیے۔ اس معرکہ حق و باطل میں جہاں پاکستان کی بری اور فضائی افواج نے بھارتی حملوں کو ناکامی سے دورچار کیا اور جوابی کاروائی میں بھارتی افواج کی کمر توڑ کر رکھ دی وہیں پاکستان کی بحری فوج نے سمندری و ساحلی حدود کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے بھارتی نیوی کو دھول چٹا دی۔ 1965کی جنگ میں جہاں بھارت نے سرگودھا سمیت دیگر شہروں پر فضائی حملے کیے، وہیں پاکستان کی معاشی و اقتصادی سرگرمیوں کے مرکز ساحلی پٹی پر واقع اہم بندرگارہ کے حامل شہر کراچی کو بھارتی فضائیہ نے اپنے نشانے پر رکھتے ہوئے تابڑ توڑ حملے کیے جو اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ بھارتی بحریہ اپنی فضائیہ کو بھرپور معاونت فراہم کر رہی ہے۔ جب پاکستان کی ہائی کمانڈ کے علم میں یہ بات آئی کہ بھارت میں دوارکا کے ساحل پہ موجود ریڈار اسٹیشن بھارتی فضائیہ کی بھر پور رہنمائی کر رہا ہے جس کی بدولت بھارتی فضائیہ لگاتار حملے کر رہی ہے تو پاک بحریہ کی اعلیٰ قیادت نے فیصلہ کیا کہ دوارکا ریڈاراسٹیشن تباہ کیا جائے تاکہ بھارتی ائیر فورس کے حملوں کو غیر مؤثر بنایا جائے اور جارحانہ بحری حکمت عملی اپنا کر بھارتی بحریہ کو بمبئی سے با ہر نکلنے پر Read the full article














