تربت میں فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے طالب علم حیات بلوچ کیلئے سوشل میڈیا پر ہنگامہ
تربت(جی سیاین رپورٹ)تربت میں فرنٹئیر کور کے اہلکاروں کی فائرنگ سے طالب علم حیات بلوچ جاں بحق ہو گیا۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق حیات بلوچ کو مبینہ طور پر 13 اگست کو ایک بم دھماکے کے بعد ایف سی اہلکاروں نے فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔حیات بلوچ کا تعلق بلوچستان کے سرحدی علاقے ضلع کیچ سے تھا۔وہ کراچی یونیورسٹی میں فزیالوجی ڈپارٹمنٹ کے طالب علم تھے۔حیات بلوچ کے بھائی کے مطابق وہ چھٹیوں پر گھر آئے تھے اور اس توز جائے وقوعہ کے قریب ایک باغ میں والد کا ہاتھ بٹا رہے تھے۔دھماکے کے بعد فرنٹئیر کور کے اہلکار باغ میں گھس آئے اور حیات بلوچ کو تھپڑ مارے۔بعد میں ہاتھ پاؤں باندھ کر سڑک پر لایا گیا جہاں اسے 8 گولیاں ماری گئیں،جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔حیات بلوچ کی ہلاکت کا مقدمہ ان کے بھائی کی مدریے میں درج کیا گیا ہے۔سوشل میڈیا پر حیات بلوچ کے قتل کے حوالے سے سخت احتجاج کیا جا رہا ہے،اس حوالے سے ایک تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں حیات بلوچ کے والدین کو خون میں لت پت بیٹے کی لاش کے قریب روتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔سوشل میڈیا صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ حیات بلوچ کے قتل کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی جانی چاہئیے۔حیات بلوچ کی ہلاکت سے متعلق ایف سی کے صرف ایک اہلکار کو پولیس کے حوالے کیا گیا،کوئٹہ میں پریس کلب کے باہر ہونے والے مظاہرے میں واقعے میں ذمہ دار تمام اہلکاروں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے بھی اس معاملے پر آواز اٹھاتے ہوئے کہا کہ سی ایس ایس کے طالب علم کو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔بچے کو والدین کے سامنے مار دیا گیا۔کسی میں جرات نہیں کہ اس متعلق پوچھ سکیں۔دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین بھی مطالبہ کر Read the full article









