Fredji - Flying High|[Vlog No Copyright Music]🎧|AK|Audio King|

seen from Singapore

seen from Maldives
seen from United States
seen from China
seen from United States

seen from Brazil
seen from Canada
seen from United Kingdom

seen from United States
seen from China

seen from Türkiye

seen from Türkiye
seen from United States
seen from United Kingdom
seen from United States
seen from Brazil
seen from Brazil

seen from United States

seen from United States

seen from Netherlands
Fredji - Flying High|[Vlog No Copyright Music]🎧|AK|Audio King|

Anya is live and ready to show you everything. Watch her strip, dance, and perform exclusive shows just for you. Interact in real-time and make your fantasies come true.
Free to watch • No registration required • HD streaming
Such a happy beat
https://goo.gl/yVmbwD
خوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے 10 انمول نصیحتیں
امام احمد ابن حنبل ؒ نے اپنے صاحب زادے کو شادی کی رات10 نصیحتیں فرمائیں،ہر شادی شدہ مرد کو چاہیے کہ ان کو غور سے پڑھے اور اپنی زندگی میں عملی طور پر انہیں اختیار کرے۔ امام احمد ابن حنبل ؒ نے اپنے بیٹے کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: میرے بیٹے، تم گھر کا سکون حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ اپنی بیوی کے معاملے میں ان 10عادات کو نہ اپنالو۔ لہٰذاان کو غور سے سنو اور عمل کا ارادہ کرو۔ پہلی دوتو یہ کہ عورتیں تمھاری توجہ چاہتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ تم ان سے واضح الفاظ میں محبت کا اظہار کرتے رہو،لہٰذا وقتاً فوقتاً اپنی بیوی کو اپنی محبت کا احساس دلاتے رہو اور واضح الفاظ میں اس کو بتاؤ کہ وہ تمہارے لیے کس قدر اہم اور محبوب ہے؟ (اس گمان میں نہ رہو کہ وہ خود سمجھ جائے گی، رشتوں کو اظہار کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔) یاد رکھو اگر تم نے اس اظہار میں کنجوسی سے کام لیا، تو تم دونوں کے درمیان ایک تلخ دراڑ آجائے گی، جو وقت کے ساتھ بڑھتی رہے گی اور محبت کو ختم کردے گی۔ عورتوں کو سخت مزاج اور ضرورت سے زیادہ محتاط مردوں سے کوفت ہوتی ہے ، لیکن وہ نرم مزاج مرد کی نرمی کا بے جا فائدہ اٹھانا بھی جانتی ہیں ، دونوں صفات میں اعتدال سے کام لینا، تاکہ گھر میں توازن قائم رہے اور تم دونوں کو ذہنی سکون حاصل ہو۔ عورتیں اپنے شوہر سے وہی توقع رکھتی ہیں، جو شوہر اپنی بیوی سے رکھتا ہے۔یعنی عزت، محبت بھری باتیں، ظاہری جمال، صاف ستھرا لباس اور خوشبودار جسم ،لہٰذا ہمیشہ اس کا خیال رکھنا۔یاد رکھوکہ گھر کی چار دیواری عورت کی سلطنت ہے، جب وہ وہاں ہوتی ہے تو گویا اپنی مملکت کے تخت پر بیٹھی ہوتی ہے، اس کی اس سلطنت میں بے جا مداخلت ہرگز نہ کرنا اور اس کا تخت چھیننے کی کوشش نہ کرنا،جس حد تک ممکن ہو گھر کے معاملات اس کے سپرد کرنا اور اس میں تصرف کی اس کو آزادی دینا، ہر بیوی اپنے شوہر سے محبت کرنا چاہتی ہے لیکن یاد رکھو اس کے اپنے ماں باپ ، بہن بھائی اور دیگر گھر والے بھی ہیں جن سے وہ لاتعلق نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس سے ایسی توقع جائز ہے، لہٰذا کبھی بھی اپنے اور اس کے گھر والوں کے درمیان مقابلے کی صورت پیدا نہ ہونے دینا ،کیونکہ اگر اس نے مجبوراً تمہاری خاطر اپنے گھر والوں کو چھوڑ بھی دیا، تب بھی وہ بے چین رہے گی اور یہ بے چینی بالآخر تمہیں اس سے دور کردے گی۔ بلاشبہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور اسی میں اس کا حسن بھی ہے، یہ ہرگز کوئی نقص نہیں، وہ ایسے ہی اچھی لگتی ہے، جس طرح بھنویں گولائی میں خوبصورت معلوم ہوتی ہیں۔لہٰذا اس کے ٹیڑھے پن سے فائدہ اٹھاؤ اور اس کے اس حسن سے لطف اندوز ہو،اگر کبھی اس کی کوئی بات ناگوار بھی لگے تو اس کے ساتھ سختی اور تلخی سے اس کو سیدھا کرنے کی کوشش نہ کرو، ورنہ وہ ٹوٹ جائے گی، اور اس کا ٹوٹنا، بالآخر طلاق تک نوبت لے جائے گا۔مگر اس کے ساتھ ساتھ ایسا بھی نہ کرنا کہ اس کی ہر غلط اور بے جا بات مانتے ہی چلے جاؤ، وگرنہ وہ مغرور ہو جائے گی، جو اس کے اپنے ہی لیے نقصان دہ ہے،لہٰذا معتدل مزاج رہنا اور حکمت سے معاملات کو چلانا۔ شوہر کی ناقدری اور ناشکری اکثر عورتوں کی فطرت میں ہوتی ہے،اگر ساری عمر بھی اس پر نوازشیں کرتے رہو لیکن کبھی کوئی کمی رہ گئی تو وہ یہی کہے گی تم نے آج تک میری کونسی بات سنی ہے ؟لہٰذا اس کی اس فطرت سے زیادہ پریشان مت ہونا اور نہ ہی اس کی وجہ سے اس سے محبت میں کمی کرنا،یہ اس کے اندرایک چھوٹا سا عیب ہے،لیکن اس کے مقابلے میں اس کے اندر بے شمار خوبیاں بھی ہیں،بس تم ان پر نظر رکھنا اور اللہ کی بندی سمجھ کر اس سے محبت کرتے رہنا اور حقوق ادا کرتے رہنا ۔ ہر عورت پر جسمانی کمزوری کے کچھ ایام آتے ہیں۔ ان ایام میں اللہ تعالیٰ نے بھی اس کو عبادات میں چھوٹ دی ہے، اس کی نمازیں معاف کردی ہیں اور اس کو روزوں میں اس وقت تک تاخیر کی اجازت دی ہے، جب تک وہ دوبارہ صحت یاب نہ ہو جائے ، پس ان ایام میں تم اس کے ساتھ ویسے ہی مہربان رہنا ،جیسے اللہ تعالیٰ نے اس پر مہربانی کی ہے،جس طرح اللہ نے اس پر سے عبادات ہٹالیں، ویسے ہی تم بھی ان ایام میں اس کی کمزوری کا لحاظ رکھتے ہوئے ،اس کی ذمہ داریوں میں کمی کردو، اس کے کام کاج میں مدد کرادو اور اس کے لیے سہولت پیدا کرو۔ آخر میں پس یہ یاد رکھو کہ تمہاری بیوی تمہاری زوجیت میں ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ تم سے سوال کرے گا، پس اس کے ساتھ انتہائی رحم و کرم کا معاملہ کرنا۔