Basit emphasized that Babar has been the primary focus of news outlets, demonstrating his widespread popularity. The comparison between the white-ball

seen from Peru
seen from Croatia
seen from United States

seen from Canada

seen from Bangladesh
seen from United States
seen from China
seen from China
seen from Russia

seen from Argentina
seen from United States

seen from Russia
seen from United Kingdom
seen from China
seen from South Africa

seen from United Kingdom
seen from United States
seen from United States
seen from United States

seen from Russia
Basit emphasized that Babar has been the primary focus of news outlets, demonstrating his widespread popularity. The comparison between the white-ball

Anya is live and ready to show you everything. Watch her strip, dance, and perform exclusive shows just for you. Interact in real-time and make your fantasies come true.
Free to watch • No registration required • HD streaming
کیا باسط علی نے میچ فکسنگ کا اقرار کرچکے ہیں؟سابق منیجر انتخاب عالم نے انہیں کیا فیور دی؟
کراچی (جی سی این رپورٹ)پاکستان کر کٹ بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر عارف عباسی کا کہنا ہے کہ سابق ٹیسٹ کرکٹ باسط علی بھی میچ فکسنگ کا اعتراف کر چکے ہیں لیکن صرف سلیم ملک کو نشانہ بنانا سمجھ سے بالاتر ہے۔سابق سی ای اوپی سی بی عارف عباسی کا کہنا ہے کہ 1994 میں سری لنکا کے دورے کے بعد منیجر انتخاب عالم نے بتایا کہ باسط علی نے فکسنگ کا اعتراف کر لیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بطور پی سی بی چیف ایگزیکٹو انتخاب عالم کو ٹور رپورٹ میں واقعہ درج کرنے کو کہا لیکن افسوس کہ انتخاب عالم نے اپنی رپورٹ میں اس واقعے کا ذکر نہیں کیا، انتخاب عالم نے واقعے کا ذکر نہ کرکے غلط کیا۔سلیم ملک کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عارف عباسی نے کہا کہ سلیم ملک کو کیوں نشانہ بنایا جاتا رہا سمجھ سے باہر ہے، سابق کپتان سلیم ملک کو مسلسل ٹارچر کیا گیا۔عارف عباسی نے مزید بتایا کہ سلیم ملک کی انکوائری سابق چیف جسٹس فخر الدین جی ابراہیم سے کرائی گئی تھی، فخر الدین جی ابراہیم نے اپنی رپورٹ میں سلیم ملک کو بے قصور قرار دیا تھا۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سلیم ملک پر الزام لگانے والے آسٹریلین کرکٹر کو غلط بیانی پر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا، ایک بار انکوائری کے بعد دوسری بار انکوائری کی کیا ضرورت تھی، فخر الدین جی ابراہیم کے بعد جسٹس قیوم کمیشن بنانے کی ضرورت نہیں تھی۔ Read the full article
Basit Ali SEO Expert in karachi, Pakistan.
SEO Services in Karachi, Pakistan