پاکستان میں موبائل فون کا تصدیقی نظام، دلچسپ اور حیرت انگیز اعداد و شمار
حکومت کی طرف سے پاکستان بھر میں کروڑوں موبائل فون کے ڈیٹا کو ویریفائی یا تصدیق کرنے کے لئے لگایا گیا نیا سسٹم ڈی آئی آر بی ایس کے فعال ہونے کے بعد دلچسپ اور حیرت انگیز اعدادو شمار سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں پاکستان ٹیلی کام کے انتہائی ذمہ دار ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کروڑوں موبائل فون سمگلنگ اور غیر قانونی طریقے سے پاکستان آئے اس کے علاوہ ٹیکنالوجی کا غلط استعمال جس طرح پاکستان میں کیا گیا وہ بھی حیرت انگیز ہے ذرائع نے بتایا ایک ہی موبائل فون کے شناختی نمبر آئی ایم ای آئی پر پاکستان کے تمام موبائل فون نیٹ ورک پر چار لاکھ سے زائد نمبر استعمال ہوئے ہیں.
یعنی کہ ایک شناختی نمبر پر چار لاکھ لوگوں نے فون استعمال کئے ہیں اور اس سارے عمل میں کئی محکمے کے لوگ بھی شامل تھے جس میں محکمہ کسٹم سمیت دیگر وہ کام بھی شامل تھے جو اس طرح کے سسٹم کو پاکستان میں چلا رہے تھے اتھارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ کروڑوں موبائل فون کی ڈیوٹی ادا نہیں ہوئی ہے اور آئندہ جو فون سسٹم میں آئیں گے اگر ان کی بھی ڈیوٹی ادا نہ ہوئی تو جو سم موبائل فون میں ڈالی جائے گی وہ اسی نیٹ ورک کے ساتھ منسلک کر دی جائے گی پی ٹی اے پی ٹی اے کے ذمہ دار ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملک بھر میں غیر قانونی طریقے سے آنے والے موبائل فونز کو پاکستان کے موبائل فون نیٹ ورک پر بند کرنے کا باقاعدہ طور پر آغاز کیا جا رہا ہے.
پہلے مرحلے میں ابھی صارف جو سم موبائل فون میں ڈالے گا اسی نیٹ ورک کے ساتھ سم کو منسلک کر دیا جائے گا اور وہ فون صرف ایک ہی موبائل فون کمپنی کے نیٹ ورک پر چلے گا دوسری طرف موبائل فون فروخت کرنے والے آل پاکستان یونین پنجاب کے صدر نعیم ورلڈ ایچ نے جنگ کو بتایا ہے کہ ملک بھر میں سمیت پنجاب میں بھی موبائل فون سمز بند ہونا شروع ہو گئی ہیں اور اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ جو فون بغیر تصدیق کے پاکستان میں آئے ہیں یہ ابھی تک وہی فون بند ہو رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اس کو حل کرنے کے لیے دن رات کوشش کر رہے ہیں۔
زبیر قصوری
بشکریہ روزنامہ جنگ

















